40

گل پلازہ کمیشن مشکوک ، کارکردگی مایوس کن ہے. آفاق احمد

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) مہاجر قومی موومنٹ (پاکستان) کے چئیرمین آفاق احمد نے گل پلازہ کمیشن کی تحقیقات پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ کمیشن کی جانب سے ڈی سی ساؤتھ اور ایس بی سی اے کے ڈی جی کی تعریف ناقابل فہم جبکہ کمیشن کے سامنے صوبائی حکومت کے ذمہ داران کے بیانات گمراہ کن ہیں، اگر سرکاری اعدادو شمار کو ہی سچ مان لیا جائے تو بھی 73 افراد کا جل کر شہید ہونا ایک المیہ ہے ایسے میں اس واقعے کے ذمہ داران کو قابل ستائش کارکردگی کا ہار پہنانا شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے. اپنی رہائش گاہ پر تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے آفاق احمد نے کہا کہ سرکاری ڈاکٹر نے کمیشن کے سامنے اعتراف کیا کہ بعض لاشیں پیکٹوں میں ملی تھیں اور ہڈیاں اور گوشت مکس تھے ایسے میں ڈاکٹر سے یہ کیوں نہیں پوچھا جاتا کہ جب لاشیں ناقابلِ شناخت تھیں تو پھر 73 کا عدد حتمی کیسے تصور کیا جاسکتا ہے ؟. آفاق احمد نے کہا کہ گل پلازہ کے معاملے میں صرف دال میں کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے، حیران کن بات یہ ہے کہ عدالت نے معاون کے طور پر اپنے ریڈر اور دو وکلاء کا تقرر کیا حالانکہ ایسے سانحے کی تحقیقات میں مدد فراہم کرنے کے لیے معاون کے طور پر ماہرین کی خدمات لینا چائیے تھی، دوسری طرف چھ بچ جانے والے متاثرین کو جنہیں کمیشن نے پچیس فروری کو بلایا انکی سیکیورٹی کا کیا بندوبست کیا گیا ہے کوئی بتانے پر تیار نہیں. آفاق احمد نے کہا کہ اس پورے معاملے میں پولیس کا کردار پہلے ہی مشکوک ہے کیونکہ ایس ایچ او نے عجلت میں آگ کا زمہ دار دو بچوں کو قرار دے کر ایف آئی آر کا اندراج کر لیا، ان حالات میں اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں دی جاسکتی کہ متاثرینِ گل پلازہ دباؤ سے آزاد ہونگے. آفاق احمد نے کہا کہ گل پلازہ انجمن کے صدر نے عدالت کو واضح طور بتایا کہ ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی اسکے علاوہ صدر نے بھی آگ لگنے کی زمہ داری بچوں پہ ڈالی جو کہ گل پلازہ انجمن اور حکومت کے گٹھ جوڑ کا ثبوت ہے ایسے میں کمیشن کی سربراہی ایک ایسے شخص کو سونپنا جس پر جوڈیشل کمیشن میں ریفرنس دائر ہے مزید سوالات کو جنم دیتا ہے لہذا کمیشن کو ایف آئی اے، ایم آئی، آئی ایس آئی اور آئی بی کے افسران پہ مشتمل ہونا چائیے تھا یا ان کو عدالت کی معاونت کی زمہ داری سونپا چائیے تھی، گل پلازہ کمیشن کا مشکوک کردار دیکھتے ہوئے ضروری ہوگیا کہ سپریم کورٹ اس معاملہ پر سو موٹو ایکشن لے اور نئے سرے سے آزاد کمیشن تشکیل دیا جائے. انہوں نے مزید کہا کہ سانحہ گل پلازہ کے چند روز بعد چالیس گز پر بنی نو منزلہ بلڈنگ میں آگ لگنے سے سولہ افراد کا جھلس کر مرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہم حادثات سے سیکھنے کے بجائے نئے حادثے کا انتظار کرتے ہیں، اگر اب بھی کچھ نا بدلا گیا تو مزید حادثات دیکھنے کو مل سکتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں