41

سندھ ہائیکورٹ: 8 لاکھ مزدوروں کے حقوق سے متعلق درخواست متاثرہ فریق نہ ہونے پر مسترد

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) **سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ** میں سندھ کے **8 لاکھ مزدوروں کے لیے قوانین پر عملدرآمد** کے حوالے سے درخواست کی سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران عدالت نے وکیل درخواست گزار سے سوال کیا کہ:
*”یہ کیس آپ نے کیوں لایا ہے؟”*

وکیل درخواست گزار **طارق منصور** نے بتایا کہ:
*”ساڑھے آٹھ لاکھ مزدور متاثر ہیں اور ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ مزدور غریب ہیں اور عدالت نہیں آ سکتے۔”*

وکیل نے مزید کہا کہ:

* **مزدوروں کے حقوق سے متعلق آئین کے آرٹیکل 8، 9 اور 25 کی خلاف ورزی** ہو رہی ہے۔
* **لیبر پالیسی میں بھی تبدیلی کی گئی**۔
* **اقوام متحدہ کے قوانین اور پاکستان کے سائن کیے گئے معاہدے** کی بھی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

عدالت نے سرکاری وکیل سے دلائل دینے کی ہدایت کی۔ سرکاری وکیل نے کہا:
*”درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہیں۔ سرکار نے مڈل مین اور کنٹریکٹرز کے ذریعے براہ راست مزدروں کے لیے قانون سازی کی ہے۔”*

طارق منصور وکیل نے کہا:
*”سرکاری وکیل غلط بیانی کر رہے ہیں، میں اقوام متحدہ کو خط لکھوں گا۔”*

عدالت نے ریمارکس دیے:
*”وہ آپ کی مرضی ہے۔ ہم نے آپ کو سن لیا ہے، آپ متاثرہ فریق نہیں ہیں، درخواست مسترد کی جاتی ہے۔”*

سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار **جذباتی ہو گئے** اور عدالت نے انہیں بار بار **روسٹرم چھوڑنے کی ہدایت** دی۔

طارق منصور ایڈووکیٹ نے روسٹرم چھوڑنے سے انکار کیا اور کہا:
*”مجھے کمرہ عدالت سے باہر پھینکوادیں۔”*

عدالت نے کہا:
*”آپ کو کہا ہے تو خود ہی چلے جائیں۔”*

آخرکار، **طارق منصور ایڈووکیٹ روتے ہوئے کمرہ عدالت سے باہر نکل آئے**۔

اپنا تبصرہ بھیجیں