پشاور(ایچ آراین ڈبلیو)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ دو دن سے جو ہمارے ساتھ سلوک کیا گیا، اس پر سخت مذمت اور غصے کا اظہار کرتا ہوں۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کو دو راتوں سے سڑک پر بیٹھا رکھا گیا، رات 3 بجے تک اڈیالہ جیل اور صبح 10 بجے سے سپریم کورٹ کے باہر موجود ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ملک کے سب سے مقبول ترین لیڈر ہیں، ان کی صحت کے ساتھ غفلت برتی گئی اور انہیں ایسے اسپتال لایا گیا جہاں ان کے مرض کی تشخیص کے لیے ماہرین موجود نہیں تھے۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین ان سے ملاقات کر سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم آئین کے دائرے میں رہ کر جدوجہد کرتے اور مکالمہ کرتے ہیں، مگر جب تمام دروازے بند کر دیے جائیں اور ہمیں دیوار سے لگایا جائے تو پرامن احتجاج کا حق ہمارا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ذاتی معالجین سے ملاقات کے لیے درخواست کی گئی مگر اسے مسترد کر دیا گیا ہے، جس کے بعد پارٹی سیاسی کمیٹی اجلاس میں جا کر آئندہ لائحہ عمل طے کرے گی۔
سہیل آفریدی نے کہا: “دو دن سے جو ہمارے ساتھ کیا گیا، اس پر میں سخت مذمت اور غصے کا اظہار کرتا ہوں۔”


