کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سانحہ گل پلازہ کے بعد جاری فائر سیفٹی الٹی میٹم کے باوجود کراچی اور دیگر شہروں میں فائر سیفٹی آلات کی مصنوعی قلت اور بلیک مارکیٹنگ کا انکشاف ہوا ہے۔
حکام کے مطابق عمارتوں میں فائر الارمز، ایکسٹنگشرز، اسموک ڈیٹیکٹرز اور دیگر حفاظتی نظام نصب کرنا لازمی قرار دیا گیا تھا، تاہم بعض سوداگر اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فائر سیفٹی آلات کی مصنوعی قلت پیدا کر رہے ہیں اور انہیں غیر قانونی طور پر بلیک مارکیٹ میں مہنگی قیمتوں پر فروخت کر رہے ہیں۔
فائر سیفٹی آلات کی طلب میں اچانک اضافہ اور محدود سپلائی کی وجہ سے عمارتوں میں حفاظتی نظام مہنگا اور غیر دستیاب ہو گیا ہے، جس سے شہریوں کی جان و مال کو خطرہ لاحق ہے۔
حکام نے شہریوں اور عمارت مالکان سے اپیل کی ہے کہ وہ قانونی اقدامات کے تحت فائر سیفٹی آلات کی تنصیب یقینی بنائیں اور غیر قانونی سوداگران کے حربوں سے خبردار رہیں، تاکہ آئندہ ممکنہ سانحات سے بچا جا سکے۔
یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فائر سیفٹی صرف ضابطہ نہیں، بلکہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کا سب سے اہم جزو ہے۔


