کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ حکومت نے کراچی میں پانی چوری کے خاتمے کے لیے ایک تاریخی اور بڑا اقدام کرتے ہوئے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کو سخت قانونی اختیارات تفویض کر دیے ہیں۔
واٹر کارپوریشن کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت اب پانی چوری کی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ کراچی کی تاریخ میں پہلی بار پانی چوری کے مقدمات کے لیے واٹر کارپوریشن کا خصوصی ٹربیونل قائم کیا گیا ہے، جس کا باضابطہ افتتاح چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے کیا۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب بھی افتتاحی تقریب میں موجود تھے۔
تقریب میں سی ای او واٹر کارپوریشن احمد علی صدیقی، سی او او انجینئر اسد اللہ خان، سی ایف او عمار علی خان، اور ٹربیونل کے جج منیر بخش بھٹو سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ واٹر کارپوریشن کے مرکزی دفتر کارساز میں ہونے والی تقریب کے دوران چیف جسٹس اور میئر کراچی نے ہائیڈرنٹس سیل مینجمنٹ اور کمپلینٹ مینجمنٹ سینٹر کا بھی دورہ کیا، جہاں سی ای او نے تفصیلی بریفنگ دی۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ خصوصی ٹربیونل کے قیام سے پانی چوری کے مقدمات تیزی سے نمٹائے جائیں گے اور ملوث عناصر کے خلاف فوری، مؤثر اور فیصلہ کن قانونی کارروائی ممکن ہوگی۔
واٹر کارپوریشن ایکٹ کے تحت قائم یہ خصوصی ٹربیونل عوامی مفاد، شہری حقوق اور آبی وسائل کے تحفظ کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا گیا ہے۔
یہ اقدام کراچی میں پانی کے وسائل کے مؤثر تحفظ اور شہری سہولت کے لیے ایک تاریخی قدم ہے۔


