62

ڈریم سٹی پراجیکٹ کی زمین کی جعلی لیز کیس، سابق ڈی جی ایس بی سی اے سمیت 12 ملزمان عدالت میں پیش

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) ڈریم سٹی پراجیکٹ کی زمین پر جعلی لیز جاری کرنے کے الزام میں سابق ڈی جی ایس بی سی اے اسحاق کھوڑو سمیت دیگر 12 ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ ملزمان نے عدالت میں زیر ضمانت 50،50 ہزار روپے جمع کرائے۔

عدالت نے ملزمان کو ڈائریکٹ کمپلینکی نقول فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کیس کی سماعت 11 فروری تک ملتوی کر دی۔

مدعی ابوذر عارف قاسمانی کے مطابق یہ زمین قانونی طور پر ان کے 80 سالہ والد کی ہے، تاہم 6 اکتوبر 2016 کو ایس بی سی اے نے سروے نمبر 92 اور 93 پر این او سی جاری کر کے تعمیرات کی اجازت دی۔ سروے نمبرز کے مطابق صرف 225 مکانات کی تعمیر کی گنجائش تھی، لیکن 318 سے زائد پلاٹس فروخت کیے گئے۔

درخواست میں الزام ہے کہ ان پلاٹس پر جعلی لیزیں جاری کی گئیں، اختیارات کا غلط استعمال اور جعلسازی کی گئی۔ مدعی کے بزرگ والد کے ذاتی ملازم افضل کو ورغلا کر جعلی اسپیشل پاور آف اٹارنی حاصل کی گئی اور مختلف سرکاری محکموں کے افسران اس جعلسازی میں شامل تھے۔

ملزمان میں سابق ڈی جی ایس بی سی اے اسحاق کھوڑو، اسسٹنٹ ڈائریکٹر انس حسنین، ڈائریکٹر کورنگی سید محمد ضیاء، ڈیزائن انجینئر فرحان قیصر، مختار کار ریاض مغیری، نذیر زرداری، سب رجسٹرار یاسر حسین شاہ، ایس ایچ او الفلاح بدر شکیل اور راؤ عمیر شامل ہیں۔ مدعی نے عابد عزیز اشرفی اور محمد افضل کو بھی ملزم نامزد کیا ہے۔

ابوذر عارف قاسمانی کا کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو درخواست کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں