**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** — کراچی کے گنجان آباد علاقے گارڈن سے لاپتہ ہونے والے دو معصوم بچوں کا معمہ ایک سال گزر جانے کے باوجود حل نہ ہو سکا، جو سندھ حکومت کے دعوؤں اور پولیس کی کارکردگی پر ایک بدنما داغ بن چکا ہے۔ 14 جنوری 2025 کو لاپتہ ہونے والے یہ دو جگر گوشے، جو آپس میں پڑوسی تھے، آج بھی اپنے گھر کی دہلیز پر واپسی کے منتظر ہیں، مگر افسوس کہ ریاست کی آنکھیں اب تک بند ہیں۔
**سرد خانے کی نذر ہوتی فائلیں اور ممتا کی آہ و بکا**
ایک سال طویل انتظار کے بعد بھی پولیس تاحال کسی سراغ تک پہنچنے میں ناکام رہی ہے۔ متاثرہ والدہ کی حالت دیکھ کر پتھر دل بھی پگھل جائیں، مگر بے حس نظام پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔ اپنے بچوں کی یاد میں نڈھال ماں آج بھی ہر آنے والے قدم کی چاپ پر لپکتی ہے کہ شاید اس کے لختِ جگر لوٹ آئے ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ “ہر دن قیامت کی طرح گزرتا ہے، کیا اس شہر میں غریب کے بچوں کی کوئی قیمت نہیں؟”
**پولیس اور سندھ حکومت کی مجرمانہ غفلت**
اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ پولیس نے ابتدا میں روایتی بیانات سے بہلایا اور اب یہ کیس مکمل طور پر سرد خانے کی نذر کر دیا گیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں دو بچوں کا ایک سال تک شہر سے غائب رہنا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بے خبر رہنا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ حکومتِ سندھ، جو امن و امان کے بڑے دعوے کرتی ہے، اس معاملے میں مکمل طور پر خاموش اور لاتعلق دکھائی دیتی ہے۔
**عوامی غصہ اور حکام سے سوال**
علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ بچے کسی بااثر شخصیت یا سیاستدان کے ہوتے تو اب تک پورا سرکاری مشنری حرکت میں آ چکی ہوتی۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس کی اس مجرمانہ غفلت کا نوٹس لیا جائے اور اعلیٰ حکام خوابِ خرگوش سے جاگ کر ان معصوم بچوں کی بازیابی کے لیے عملی اقدامات کریں۔
جب تک یہ بچے گھر نہیں لوٹتے، یہ ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نااہلی کا کھلا اشتہار بنے رہیں گے۔


