ملیر(ایچ آراین ڈبلیو)ملیر سوشل فورم کی جانب سے صالح محمد گوٹھ، حاجی بیت اللہ باغ میں ایک بڑا اجتماع منعقد کیا گیا، جس کا عنوان تھا “ملیر کے مزاحمتی کردار عظیم دہکان سے اظہار یکجہتی”۔
اجتماع میں ملیر کی زمینوں پر مبینہ غیر قانونی قبضوں اور ملیر ایکسپریس وے (شاہراہِ بھٹو) کے نام پر تاریخی سید ظہور شاہ ہاشمی لائبریری کو مسمار کرنے کی کوششوں کے خلاف عظیم دہکان سے مکمل ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔
اجتماع میں مزاحمتی رہنما عظیم دہکان، ملیر سوشل فورم کے چیئرمین ڈاکٹر انور لاشاری، سابق یوسی چیئرمین صالح محمد گوٹھ، مجید بلوچ، سیاسی و سماجی رہنما فرید بلوچ، عبدالغفار بلوچ، وڈیرہ اختر بلوچ سمیت دیگر مقامی شخصیات اور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
خطاب کرتے ہوئے عظیم دہکان نے کہا کہ ملیر میں بااثر عناصر کی سرپرستی میں مقامی لوگوں کی زمینوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملیر ایکسپریس وے کے نام پر زرعی زمینیں ہتھیائی جا رہی ہیں اور تعلیمی اداروں کو بھی مسمار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سید ظہور شاہ ہاشمی لائبریری کو گرانے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور اس کے خلاف ہر سطح پر مزاحمت کی جائے گی۔
ملیر سوشل فورم کے چیئرمین ڈاکٹر انور لاشاری اور دیگر مقررین نے کہا کہ مقامی عوام کی قیمتی زمینوں پر ناجائز قبضے کیے جا رہے ہیں اور جو لوگ زمینوں پر قبضوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں، انہیں جعلی مقدمات میں الجھا کر ہراساں کیا جا رہا ہے، جو قابلِ مذمت ہے۔
مقررین نے مزید کہا کہ ملیر کے عوام عظیم دہکان کے ساتھ کھڑے ہیں اور زمینوں پر قبضے کسی صورت قبول نہیں کیے جائیں گے۔
اجتماع کے اختتام پر شرکاء نے ہاتھوں میں پینا فلیکس اٹھا کر شدید نعرے بازی کی اور غیر قانونی قبضوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا۔


