71

حیدرآباد،کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن،بلدیہ اعلیٰ کے لینڈ ڈپارٹمنٹ کی جعلی پروموشنز کی انکوائری

حیدرآباد (ایچ آراین ڈبلیو)سال 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی ملک بھر میں کرپشن کے خلاف سخت اقدامات کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ وفاقی و صوبائی پالیسی کے تحت سرکاری اداروں میں بدعنوان عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔ اسی تناظر میں بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد کے لینڈ ڈپارٹمنٹ میں مبینہ جعلی پروموشنز اور سنگین بے ضابطگیوں پر شروع کی گئی انکوائری کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق لوکل گورنمنٹ سندھ کی ہدایت پر جاری اس انکوائری میں مزید افسران اور اہلکاروں کو باضابطہ طور پر شامل کر لیا گیا ہے۔ انکوائری کی نگرانی اسپیشل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سندھ رفیق قریشی کر رہے ہیں، جنہوں نے مکمل، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کے واضح احکامات جاری کیے ہیں۔

تحقیقات کے دوران لینڈ ڈپارٹمنٹ کے سروس ریکارڈ، ترقیوں کے نوٹیفکیشنز، فائلوں اور دیگر سرکاری دستاویزات کی باریک بینی سے جانچ کی جا رہی ہے، جبکہ متعلقہ افسران اور ملازمین کے بیانات بھی قلمبند کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قواعد و ضوابط کو نظرانداز کرتے ہوئے مبینہ طور پر یو آر آئی (URI) کی جعلی یا غیر قانونی پروموشنز دی گئیں، جن میں اختیارات کے ناجائز استعمال اور سرکاری مفادات کو نقصان پہنچانے کے شواہد کی چھان بین جاری ہے۔

کرپشن کے خلاف کارروائی کو مؤثر بنانے کے لیے ایف آئی اے، نیب، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور اسٹیبلشمنٹ ڈپارٹمنٹ سندھ بھی متحرک ہو چکے ہیں اور اپنے اپنے دائرہ اختیار میں ابتدائی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے تاکہ ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

شہری، سماجی اور تاجر حلقوں نے انکوائری میں مزید نام شامل ہونے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اگر الزامات ثابت ہوں تو ملوث افراد کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ حلقوں کا کہنا ہے کہ واسا سیوریج، بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد، مختلف ٹاؤنز اور یوسی چیئرمینز کے کردار کی بھی جامع جانچ کی جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

ذرائع کے مطابق انکوائری رپورٹ مکمل ہونے کے بعد مزید معطلیوں، برطرفیوں اور تادیبی کارروائیوں کا قوی امکان ہے۔ اعلیٰ حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے کسی بھی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا اور معاملے کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں