نئی دہلی (ایچ آر این ڈبلیو) بھارتی حکمران جماعت **بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)** سے تعلق رکھنے والی خاتون رہنما **نونیت رانا** کے ایک بیان نے بھارت میں سیاسی اور سماجی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نونیت رانا نے ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ **مسلمان 19 بچے پیدا کر رہے ہیں اور اس عمل کے ذریعے بھارت کو پاکستان بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے**۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہمیں بھارت سے محبت ہے تو **ہندو جوڑوں کو کم از کم تین سے چار بچے پیدا کرنے چاہئیں** تاکہ آبادی کے تناسب کو برقرار رکھا جا سکے۔
نونیت رانا کے اس بیان کو مختلف حلقوں کی جانب سے **انتہائی اشتعال انگیز اور نفرت انگیز** قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ انسانی حقوق کے کارکنوں نے اسے **مذہبی بنیادوں پر نفرت کو ہوا دینے کے مترادف** کہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے بیانات نہ صرف معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ ملک میں مذہبی تقسیم کو بھی گہرا کرتے ہیں۔


