**تہران (ایچ آراین ڈبلیو)** — ایرانی مسلح افواج نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف **مزاحمت جاری رکھنے** کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے مؤقف سے اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک دونوں ممالک کو مکمل شکست اور دشمن کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کردیا جاتا۔
ایرانی مسلح افواج کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران اپنے دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مزاحمت جاری رکھے گا۔ ایرانی حکام نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف اپنے سخت مؤقف کو برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے اپنے مؤقف سے دستبردار نہیں ہوگا اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
### انسانی حقوق اور علاقائی امن کا پہلو
امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات براہِ راست **عام شہریوں کے حقِ زندگی، تحفظ اور بنیادی انسانی حقوق** پر پڑ سکتے ہیں۔ عسکری تنازعات میں شہری آبادی کو جانی نقصان، نقل مکانی اور بنیادی سہولیات کی قلت جیسے سنگین انسانی مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔
تمام فریقین پر لازم ہے کہ **بین الاقوامی انسانی قانون** کی پاسداری کریں، شہریوں اور غیر جنگجو افراد کو تحفظ دیں اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے سفارتی راستوں کو ترجیح دیں۔ خطے میں پائیدار امن صرف فوجی طاقت کے بجائے مذاکرات اور انسانی جانوں کے تحفظ کو ترجیح دینے سے ممکن ہے۔
**Support HRNW:**
انسانی حقوق، آزادیِ اظہار، انصاف اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کی حمایت کریں۔
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
**Disclaimer:**
یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور ایرانی مسلح افواج سے منسوب بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ فریقین کے بیانات اور دعوے آزادانہ طور پر حتمی طور پر تصدیق شدہ نہیں سمجھے جانے چاہئیں۔


