کراچی، پاکستان (ایچ آراین ڈبلیو) کراچی میں ٹریفک حادثات ایک سنگین انسانی بحران کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق رواں سال اب تک مختلف ٹریفک حادثات میں **847 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 11 ہزار 990 شہری زخمی ہوئے ہیں۔**
اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں میں بڑی تعداد **ہیوی ٹریفک** کے باعث پیش آنے والے حادثات کی ہے۔ رواں سال ہیوی گاڑیوں سے ہونے والے حادثات میں **256 افراد جاں بحق** ہوئے، جن میں:
* ڈمپر کی ٹکر سے **44 افراد**
* ٹریلر کی زد میں آ کر **99 افراد**
* واٹر ٹینکر سے ٹکر کے نتیجے میں **60 افراد**
* منی ٹرک سے **20 افراد**
* بسوں کی ٹکر سے **33 افراد** جان سے گئے
ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں **663 مرد، 87 خواتین اور 97 بچے** شامل ہیں، جو اس المیے کی سنگینی کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
ماہرین اور شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ **ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کی کمی، اوور اسپیڈنگ، ناقص روڈ انفراسٹرکچر اور ہیوی ٹریفک کی غیر منظم نقل و حرکت** انسانی جانوں کے ضیاع کی بڑی وجوہات ہیں۔
ہیومن رائٹس نیوز واچ (HRNW) مطالبہ کرتی ہے کہ:
* شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے
* ہیوی ٹریفک کے لیے سخت قوانین نافذ کیے جائیں
* ڈرائیورز کی تربیت اور نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے
* متاثرہ خاندانوں کو فوری انصاف اور معاوضہ فراہم کیا جائے
**شہریوں کی زندگیاں ریاست کی اولین ذمہ داری ہیں، اور غفلت مزید جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔**


