حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو)حساس ترین سینٹرل جیل حیدرآباد میں قیدیوں کے دو گروپوں کے درمیان جھگڑا پھوٹ پڑا، جس کے نتیجے میں پانچ قیدی زخمی ہو گئے۔ جیل انتظامیہ نے صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی، تاہم لڑائی کچھ دیر تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق جھگڑا اُس وقت شروع ہوا جب سندھ کے یومِ ثقافت کے سلسلے میں مبینہ طور پر منعقدہ ایک تقریب میں قیدیوں کو سندھی گیتوں پر رقص سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو پیچھے ہٹانے اور مبینہ دھکے دیے جانے کے بعد صورتحال بگڑ گئی، اور دو گروپس میں شدید ہاتھا پائی شروع ہوگئی۔
ذرائع کے مطابق جھگڑے کا محرک پرچی پر تعینات جیلر عبدالکریم عباسی کی ناقص انتظامی حکمت عملی بتائی جا رہی ہے۔ جیل حلقوں کا دعویٰ ہے کہ عبدالکریم عباسی پر اس سے قبل بھی بچہ جیل میں قیدیوں پر تشدد کے الزامات سامنے آئے تھے۔ تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
مزید جیل ذرائع کے مطابق عبدالکریم عباسی سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر نہ صرف سینٹرل جیل میں سپرنٹنڈنٹ کے طور پر تعینات ہیں بلکہ پولیس ٹریننگ سینٹر گنجو ٹکر کے پرنسپل بھی مقرر کیے گئے ہیں۔
جیل میں رات گئے تک کشیدگی برقرار رہی اور انتظامیہ نے صورت حال کو معمول پر لانے کے لیے اضافی اہلکار تعینات کر دیے۔ زخمی قیدیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کر دی گئی۔


