جدید کھادوں کی تحقیق اور پائیدار زراعت کے لیے شراکت داری پر اتفاق، معاہدے پر دستخط

ٹنڈوجام(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے شعبہ سوائل سائنس اور لائن ایگرو فرٹیلائزر پرائیویٹ لمیٹڈ کے درمیان پائیدار زراعت کے فروغ، مٹی کی صحت بہتر بنانے اور جدید کھادوں کی تحقیق کے لیے مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کر دیے گئے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد زرعی تحقیق کو عملی، کسان دوست اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ حلوں میں تبدیل کرنا اور اکیڈمیا، صنعت اور کسان برادری کے درمیان مؤثر شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب سندھ زرعی یونیورسٹی کے سینیٹ ہال میں منعقد ہوئی، یہ معاہدہ یونیورسٹی کے سینیٹ ہال میں وائیس چانسلر ڈاکٹر الطاف علی سیال کی موجودگی میں طے پایا، اور یونیورسٹی کی جانب سے ڈائریکٹر ORIC ڈاکٹر تنویر فاطمہ میانو جبکہ لائن ایگرو فرٹیلائزر پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے چیف ایگزیکٹو آفیسر راشد خان قائم خانی نے معاہدے پر دستخط کیے۔معاہدے کے تحت دونوں ادارے پاکستان میں زرعی پیداوار میں اضافہ، مٹی کی زرخیزی کی بہتری اور کسانوں کی خوشحالی کے لیے سستے، مؤثر اور پائیدار زرعی حل تلاش کرنے کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گے۔ اس مقصد کے لیے کھادوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے فیلڈ ٹرائلز اور تجرباتی پلاٹس قائم کیے جائیں گے، جبکہ مٹی کی صحت، متوازن غذائیت اور مخصوص فصلوں کے لیے جدید کھادوں کی تیاری پر تحقیق کی جائے گی۔اس شراکت داری کے تحت طلبہ اور اساتذہ کو انڈسٹری سے وابستہ تحقیقی منصوبوں میں شامل کیا جائے گا، جبکہ کسانوں کی آگاہی کے لیے سیمینارز اور ورکشاپس کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔ شعبہ سوائل سائنس سائنسی ٹرائلز اور مٹی کے تجزیے کی سہولیات فراہم کرے گا، جبکہ لائن ایگرو فرٹیلائزر تحقیق کے لیے ضروری کھادیں اور تکنیکی معاونت فراہم کرے گی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ اکیڈمیا اور صنعت کے درمیان مؤثر تعاون موجودہ زرعی چیلنجز، بالخصوص مٹی کی زرخیزی اور پائیدار فصلوں کی پیداوار کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے اشتراک سے سائنسی تحقیق کو عملی سطح پر لا کر کسانوں کے لیے قابلِ عمل اور کم لاگت حل فراہم کیے جا سکتے ہیں، جو قومی زرعی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔اس موقع پر ڈین فیکلٹی آف کراپ پروڈکشن، پروفیسر ڈاکٹر عنایت اللہ راجپر نے کہا کہ ایک معتبر فرٹیلائزر انڈسٹری کے ساتھ شراکت داری سے بین الشعبہ جاتی تحقیق، صلاحیت سازی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو تقویت ملے گی۔ چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف سوائل سائنس، پروفیسر ڈاکٹر اللہ ودھایو گانداہی نے کہا کہ یہ معاہدہ مقامی زرعی اور ماحولیاتی حالات کے مطابق کھادوں کے سائنسی جائزے، مٹی کی زرخیزی کے تجزیے اور مٹی کی صحت سے متعلق تحقیق کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔یہ پانچ سالہ معاہدہ باہمی رضامندی سے قابلِ توسیع ہوگا، جبکہ یونیورسٹی کی جانب سے پروفیسر ڈاکٹر اللہ ودھایو گانداہی اور لائن ایگرو فرٹیلائزر کی جانب سے سی ای او راشد خان قائم خانی کو روابط کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں