کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)پریشان چوک میں فائرنگ سے 18 سالہ نوجوان جاں بحق، پولیس تین گھنٹے سے زائد حدود کے تنازعے میں الجھی رہی
بلدیہ ٹاؤن کے علاقے اپریشان چوک، طاہر ہوٹل کے قریب فائرنگ کے واقعے میں 18 سالہ نوجوان نصیر احمد گولی لگنے سے جاں بحق ہوگیا، واقعہ ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر پیش آیا
عینی شاہدین اور اہلِ خانہ کے مطابق واقعے کے بعد مقتول کی لاش کو فوری طور پر سول ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم اتحاد ٹاؤن اور مومن آباد تھانوں کی پولیس تین گھنٹے سے زائد وقت تک حدود کے تنازعے میں الجھی رہی، جس کے باعث قانونی کارروائی میں شدید تاخیر ہوئی اور ورثا کو سخت اذیت کا سامنا کرنا پڑا
بعد ازاں چیئرمین یونین کونسل 10 بلدیہ ٹاؤن محمد اکرم اعوان نے ایس ایس پی کیماڑی امجد شیخ سے رابطہ کیا، جس کے بعد اتحاد ٹاؤن پولیس نے سول ہسپتال پہنچ کر ضروری قانونی کارروائی مکمل کی اور مقتول کی لاش ورثا کے حوالے کی
محمد اکرم اعوان نے واقعے پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ماں کا لال اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، مگر پولیس تین گھنٹے سے زائد وقت تک حدود کے تعین پر آپس میں الجھی رہی، جس سے نہ صرف قانونی کاروائی میں تاخیر ہوئی بلکہ لواحقین شدید کرب میں مبتلا رہے
انہوں نے بتایا کہ مقتول نصیر احمد کی نمازِ جنازہ آج ادا کی جائے گی۔ محمد اکرم اعوان نے ایس ایس پی کیماڑی سے مطالبہ کیا کہ نوجوان کے قتل میں ملوث ملزمان کو فی الفور گرفتار کرکے انہیں عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ہوسکے
واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ شہریوں نے پولیس کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے


