پیکا ایکٹ‌ کے خلاف درخواستیں، پی ٹی اے کا جواب آنے تک سماعت ملتوی

لاہور (ایچ آراین ڈبلیو) لاہور ہائیکورٹ نے پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 کے خلاف درخواستوں پر پنجاب حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکشین اتھارٹی (پی ٹی اے) سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی

ذرائع کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ جسٹس فاروق حیدر نے صحافی تنظیم سمیت دیگر درخواست گزاروں کی درخواستوں پر سماعت کی۔

وفاقی حکومت کی جانب سے عدالت میں جواب جمع کروا دیا گیا تاہم حکومت پنجاب اور پی ٹی اے کی جانب سے جواب جمع نہ کروانے پر عدالت نے اظہارِ برہمی کیا۔

پی ٹی اے کے وکیل نے استدعا کی کہ ہمیں جواب جمع کروانے کے لیے مزید مہلت دی جائے، جس پر جسٹس فاروق حیدر نے واضح کیا کہ اگر آئندہ سماعت پر فریقین کی جانب سے جواب نہ آیا تو قانون اپنا راستہ لے گا۔
بعدازاں عدالت نے پی ٹی اے اور حکومت پنجاب سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 13 مارچ تک ملتوی کر دی۔

یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ پیکا ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے فیک انفارمیشن پر 3 برس قید،جرمانے کی سزا ہوگی، ماضی میں پیکا ایکٹ کو ایک خاموش ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے جبکہ پیکا ترمیمی ایکٹ میں نئی سزاؤں کے اضافے سے تھوڑی سی آزادی بھی ختم ہو جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں