کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سندھ ہائی کورٹ میں 35 سال تک سرکاری ملازمت کرنے والے شخص کے شناختی کارڈ کی تجدید نہ کرنے اور بلاک کرنے کے کیس کی سماعت
جسٹس یوسف علی سید اور جسٹس عبدالمبین لاکھو پر مشتمل ڈویژن بنچ کی حیرانی، نادرا کے وکیل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وجوہات بتائی جائیں کی ایسا کیوں کیا گیا
درخواست گزار کے وکیل ندیم احمد جمال نے عدالت کو بتایا کہ نادرا نے جو بھی کاغذات طلب کئے وہ جمع کرادئیے گئے جبکہ عدالت کے حکم پر درخواست گزار زونل سی بورڈ ملیر کے سامنے بھی پیش ہو گیا
اس کے باوجود اس کے ادارے کے ایم سی سے تصدیق کرنے کے بہانے اس کا کیس دو سال سے التوا میں رکھا گیا ہے، عدالت کے استفسار پر نادرا کا وکیل تصدیقی لیٹر بھیجنے کا کوئی ثبوت پیش نہ کر سکے
عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر نادرا کے ریجنل ڈائریکٹر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا اور نہ آنے کی صوت میں ڈی جی نادرا کو طلب کرنے کا عندیہ دے دیا
کیس کی تاریخ سماعت 6 نومبر تک ملتوی کر دی گئی


