کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے زرعی اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کو ملکی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ “ہم نے اپنی حکومت کے دور میں گندم کی سپورٹ پرائس مقرر کی تھی اور گندم کی برآمد کی تھی”۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کو رلیف دینے سے نہ صرف غربت اور مہنگائی کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی بلکہ ملک کو غذائی تحفظ بھی حاصل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال گندم کی خریداری کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور سپورٹ پرائس مقرر کی جا چکی ہے۔
بلاول بھٹو نے زور دیا کہ کسانوں کے ساتھ دینا قومی مفاد ہے، ورنہ ملک کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اب دنیا بھر میں فوڈ سیکورٹی کی بات ہو رہی ہے-وفاقی حکومت جو اقدامات کر رہی ہے وہ کسان کو مضبوط کر رہی ہے-دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں اور سیکورٹی فورسز اپنا کام کر رہی ہیں-کئی شہادتیں ہوئی ہیں لیکن ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے-
حکومت سازی کے وقت ہم سے بہت سارے وعدے کیئے گئے تھے-طے ہوا تھا کہ پی ایس ڈی پی بناتے ہوئے ہمیں اعتماد میں لیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا-ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار صدر مملکت سے ملاقات کے لئیے چل کر نواب شاہ گئے اور وعدے پورے کرنے کی یقین دہانی کروائی،پیپلز پارٹی میں تمام صوبوں سے نمائندگی موجود ہے-اس لئے ہم قومی اسمبلی میں تمام صوبوں کی آواز بن کر بات کرتے ہیں
سیاسی کارکن ہونے کے ناطے کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی کی حمایت نہیں کر سکتی-سیاسی جماعت سیاست کے بجائے شرارت کرتی ہے اور ملک کے مفاد کو نقصان پہنچے پھر پابندی لگنی چائیے-بلاول بھٹوزرداری ہمیشہ یہ بات کہتے ہیں سیاسی جماعتوں کو سیاست کرنی چائیے-اب اگر کوئی سیاسی جماعت اس بات کو نہیں سمجھتی تو قانون کو حرکت میں آنا چائیے-پنچاب میں بلدیاتی نظام پر اعتراضات اٹھ رہے ہیں-پنچاب حکومت کو کہوں گی کہ وہ قانون بناتے ہوئے مشاورت کرے-


