واشنگٹن(ایچ آراین ڈبلیو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں درآمد ہونے والی فارماسیوٹیکل مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جو یکم اکتوبر 2024 سے نافذ العمل ہوگا۔
ٹیرف کی تفصیلات:
اس نئی پالیسی کے تحت امریکا میں درآمد کی جانے والی تمام ادویات اور طبی مصنوعات پر مکمل ٹیرف عائد ہوگا۔ تاہم، امریکا کے اندر فارماسیوٹیکل پلانٹس قائم کرنے والی کمپنیوں کو ٹیرف میں چھوٹ دی جائے گی۔
بھارت پر ممکنہ اثرات:
یہ فیصلہ بھارت جیسے ممالک کے لیے خاصا مشکل ثابت ہو سکتا ہے، جو ہر سال تقریباً 10 ارب ڈالر مالیت کی ادویات امریکا کو برآمد کرتا ہے۔ نئے ٹیرف کے بعد ان مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
پالیسی کے مقاصد:
ماہرین کے مطابق یہ قدم امریکا میں ادویات کی پیداوار کو مقامی سطح پر منتقل کرنے اور فارماسیوٹیکل صنعت میں خود انحصاری بڑھانے کی کوشش ہے۔ اس سے پہلے بھی ٹرمپ انتظامیہ نے مختلف شعبوں میں “امریکا فرسٹ” کی پالیسی پر زور دیا ہے۔
یہ فیصلہ عالمی ادویاتی مارکیٹ میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے اور اس کے بین الاقوامی تجارت پر دور رس اثرات مرتسم ہو سکتے ہیں۔


