56

نیتن یاہو کی جنگ جاری رکھنے کی ہٹ دھرمی، دوحہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

اسلام آباد (ایچ آر این ڈبلیو) اسرائیلی صدر کے امن کے نعروں کے باوجود، نیتن یاہو حکومت نے دوحہ میں حماس کے مذاکراتی وفد کو نشانہ بنا کر اپنی جنگ جاری رکھن کی حقیقت منظر عام پر لا دی ہے۔

صدر ہرزوگ کے “مکمل معاہدے” کے دعوے اسی روز سامنے آئے جب اسرائیلی فورسز نے مذاکراتی میز پر بیٹھے وفد کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔ نیتن یاہو نے تو قطر کی حکومت کو یہاں تک کہہ ڈالا کہ “یا تو حماس قیادت کو ملک بدر کریں یا ہم اسامہ بن لادن جیسا انجام دے دیں گے”۔

عالمی برادری اسرائیل کی ان دوغلی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہی ہے کہ ایک طرف وہ مذاکرات کی بات کرتا ہے، دوسری طرف مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے پر تلا ہوا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ نیتن یاہو حکومت جنگ جاری رکھنے پر تلی ہوئی ہے اور وہ کسی بھی قسم کے امن معاہدے کو روکنے کے درپے ہے۔
—————-
ایچ آر این ڈبلیو کی اپیل:
ہم بے خوف اور غیر جانبدار صحافت کے ذریعے حقائق آپ تک پہنچاتے ہیں۔ اگر آپ سچائی کی تحریک کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں، تو براہ کرم ہمارے ساتھ جڑیں۔ آپ کا عطیہ ہمیں حقائق کی آواز بننے میں مدد دے گا۔

سچائی کی تحریک میں شامل ہوں۔ عطیہ دیں۔ ویب سائٹ: hrnww.com/donate

اپنا تبصرہ بھیجیں