56

اسرائیلی حملے کے جواب کا حق محفوظ رکھتے ہیں، قطر اس واقعے کو ہرگز نظر انداز نہیں کرے گا، قطری وزیراعظم

دوحہ (ایچ آراین ڈبلیو) قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے دوحہ میں حالیہ اسرائیلی حملے کو ریاستی دہشت گردی قرار دے دیا اور پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ وہ اسرائیلی حملے کے جواب کا حق محفوظ رکھتے ہیں، قطر اس واقعے کو ہرگز نظر انداز نہیں کرے گا جب کہ انہوں نے امریکا کی جانب سے پیشگی اطلاع کی خبروں کی بھی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے اسرائیلی حملے کی پیشگی اطلاع دینے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق قطری وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی کا یہ بیان اسرائیل کی جانب سے دوحہ میں حماس رہنماؤں پر حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔

قطر، مصر اور امریکا کے ساتھ مل کر غزہ جنگ کے دوران اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات کا ایک اہم ثالث رہا ہے تاہم تازہ ترین واقعے کے بعد ثالثی عمل کے متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران قطری وزیراعظم نے واضح کیا کہ ثالثی کی کوششیں قطر کی قومی شناخت کا حصہ ہیں اور کوئی بھی اقدام اسے اس کردار سے نہیں روک سکتا۔ قطر نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائیں لیکن آج کے حملے کے بعد موجودہ بات چیت میں کسی پیش رفت کا امکان نظر نہیں آتا۔

انہوں نے اسرائیل پر امن کے مواقع کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو ”ریاستی دہشت گردی“ کا مرتکب قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو نے حالیہ کارروائیوں سے ثالثی عمل کو سبوتاژ کیا ہے۔

شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے حملے کو ”مکمل طور پر جائز“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی یروشلم میں ایک حملے اور غزہ میں 4 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد کی گئی۔

الثانی کے مطابق امریکی حکام نے قطر کو اسرائیلی حملے کے آغاز کے 10 منٹ بعد آگاہ کیا، جسے انہوں نے ”100 فیصد غداری“ قرار دیا۔

قطری وزیرِ اعظم نے خبردار کیا کہ دوحہ کو اس حملے کے جواب کا حق حاصل ہے اور وہ ضروری اقدامات اٹھائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ خلیجی ملک کے ردعمل کو قانونی شکل دینے کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں