کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)پسند کی شادی اورمذہب کی تبدیلی کامعاملہ،عدالت نےبینش اورروما کےدستخط شدہ بیانات والد کےحوالےکئے-بچیوں کے بیانات موجود ہیں آپ پڑھ لیں-آپ کی بیٹی نے بیان دیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے-ایسے ایشوز عدالت میں نہیں لانے چاہیئے-
ایسے معاملے میں قانونی چارہ جوئی نا کیا کریں یہ بری بات ہے-عدالت میری بات تو سن لے، والد کی استدعا-ہم اگر آپ کو سنیں گے تو پھر ہمیں کچھ اور بھی کرنا پڑے گا، جو ہم نہیں چاہتے-جب بچوں کی خاص عمر ہوجائے تو وہ اپنے فیصلے خود کرتے ہیں-آپ انکی بیٹیاں ہیں، انہوں نے کیس کیا اسکا مطلب یہ نہیں کہ رابطہ منقطع کردیا جائے-
جوہوگیاسوہوگیا،آپ بچوں کےنانا ہیں،مل بیٹھ کرسوچیں-آپ کےوالد چاہتےہیں کہ آپ کےساتھ کوئی زبردستی ناہواورآپ خوش رہیں-اگر والد کو پتہ ہو کہ بچے خوش ہیں تو وہ کبھی ایسا نہیں چاہے گا-عدالت کی رجسٹرارکےکمرے میں کی والد اوربیٹیوں کی ملاقات کروانےکی ہدایت عدالت نے وکیل درخواست گزار کی جانب سے درخواست واپس لینے پر نمٹا دی-


