48

تھانہ شاہ لطیف میں مبینہ ٹارچرسیل میں فائرنگ، نوجوان جاں بحق

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)تھانہ شاہ لطیف میں مبینہ ٹارچر سیل میں فائرنگ، نوجوان جاں بحق سنگین انکشافات سامنے آگئے-کراچی کے تھانہ شاہ لطیف ٹاؤن میں ایک نوجوان کی ہلاکت نے پولیس نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ واقعہ 10:30 بجے پیش آیا جب عاطف بشیر نامی شخص کی مبینہ فائرنگ سے ایک نامعلوم نوجوان جان کی بازی ہار گیا۔

ذرائع کے مطابق متوفی نوجوان کو تھانہ شاہ لطیف کے اہلکار ذیشان نے دو پرائیویٹ افراد عاطف عرف “مرغی” اور شاہزیب عرف “مچھڑ” کے ہمراہ مبینہ طور پر ایک نامعلوم مقام سے حراست میں لیا اور اعلیٰ افسران کو اطلاع دیے بغیر تھانے منتقل کیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق مقتول نوجوان کو قائدآباد پل کے نیچے سے پکڑ کر غیر قانونی حراست میں لایا گیا اور اس دوران جھگڑے اور تلخ کلامی کے نتیجے میں عاطف بشیر نے فائرنگ کرکے نوجوان کو قتل کر دیا۔

دوسرے گرفتار ملزم کی شناخت شاہزیب عرف مچھڑ کے نام سے ہوئی ہے، جو کہ مبینہ طور پر پولیس رضاکار کے طور پر تھانے میں سرگرم تھا۔ذرائع کے مطابق ملزم عاطف بشیر پولیس کی وردی میں بھی دیکھا گیا ہے، جس کی تصاویر منظر عام پر آ چکی ہیں، جو واضح کرتی ہیں کہ کس طرح نجی افراد کو پولیس کا اختیار دے کر ریاستی اداروں کے اندرونی نظام کو کمزور کیا جا رہا ہے۔

مزید انکشاف یہ بھی ہوا ہے کہ تھانے کے عملے نے جائے وقوعہ سے ثبوت مٹانے کی کوشش کی، اور فوری طور پر تھانے کے فرش کو دھو دیا گیا۔ حیران کن طور پر، تھانے میں دو سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں جو مکمل ایریا کو کور کرتے ہیں اور ایک کیمرہ تھانے کے گیٹ کو کور کرتا ہے مگر تاحال واقعے کی کوئی ویڈیو فوٹیج سامنے نہیں آسکی ہے کہ جس میں یہ ظاہر ہو کہ مقتول کو کون تھانے لیکر آیا تھا

ذرائع کے مطابق، مقتول کی عمر 25 سے 26 سال بتائی جا رہی ہے، تاہم چھیپا ذرائع کے مطابق نوجوان کی شناخت اب تک نہیں ہو سکی پولیس حکام کی جانب سے ابتدائی مؤقف میں مقتول پر ڈکیتی کا الزام عائد کیا جا رہا ہے، مگر نہ تو اس کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہے اور نہ ہی اس کے قبضے سے کوئی اسلحہ برآمد ہوا۔

رپورٹس کے مطابق، آئی جی سندھ کے واضح احکامات کے باوجود تھانہ شاہ لطیف ٹاؤن میں اب بھی پی کیو آر اور پرائیویٹ اہلکاروں کے ذریعے غیر قانونی کارروائیاں جاری ہیں، جس نے پولیس کی ساکھ کو مزید متاثر کیا ہے۔

ایس ایس پی ملیر عبد الخالق پیرزادو کی تھانے میں موجودگی کے باوجود وہ میڈیا نمائندگان کو واقعے کی مکمل تفصیلات اور پولیس مؤقف دینے سے مسلسل گریزاں ہیں، جس سے عوامی تشویش میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں