سیکولر ریاست کے وزیراعظم ‏مودی کے بھارت میں مسلمانوں کا معاشی قتل جاری

نئی دہلی (ایچ آراین ڈبلیو) ‏مودی کے بھارت میں مسلمانوں کا معاشی قتل جاری، مودی کے بھارت میں مسلمان شدید امتیازی سلوک کا شکارہیں، بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہندوتوا سوچ پورے بھارتی معاشرے میں زہر اگل رہی ہے

بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو دبانے کی ہرکوشش میں ناکامی کے بعد معاشی بائیکاٹ کا حربہ سامنے آگیا، عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ’’گزشتہ کچھ عرصے سے انتہاپسند ہندوؤں کی جانب سے مسلمانوں کے اقتصادی اور سماجی بائیکاٹ کا عمل جاری‘‘

سوشل میڈیا پر مسلمان دکانداروں اور ہوٹل مالکان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، ہندوؤں کے ذہن میں یہ شک پیدا کیا جا رہا ہے کہ مسلمان دکاندار کھانوں میں تھوک، پیشاب اور گائے کے گوشت کی ملاوٹ کرتے ہیں،

عالمی میڈیا کے مطابق اس منفی پروپیگنڈے کے بعد مقامی ہندو تنظیموں اور سیاست دانوں کی جانب سے مسلمانوں کو دکانیں کرائے پر نہ دینے کا مطالبہ بھی سامنے آیا، اس گھٹیا پروپیگنڈا سے مسلمانوں سے ان کا ذریعہ معاش چھین کر انہیں دربدر کیا جا رہا ہے،

اس حوالے سے ایک ہوٹل مالک وسیم احمد کا کہنا ہے کہ اس پروپگینڈے نے میرے ہوٹل کو ویران کردیا جو پہلے گاہکوں سے بھرا ہوتا تھا،
گاہکوں کی کمی اور کاروبار میں نقصان کے باعث مجھے اپنا ہوٹل بند کرنا پڑا

اترپردیش میں ایک منظم سازش کے تحت حکم جاری کیا گیا کہ دکانیں باقاعدہ نام کے ساتھ کھولی جائیں، اس مہم کا مقصد ہندؤوں کو مسلمانوں کی دکانوں سے کچھ نہ خریدنے کے پر قائل کرنا تھا، مسلمانوں کیخلاف اس معاشی بائیکاٹ مہم میں ہندو مذ-ہبی رہنما بھی ملوث

ہندو مذ-ہبی رہنما سوامی یشویت مہاراج نے اس مہم کی پر زور حمایت کی، سوامی یشویت مہاراج کا کہنا تھا کہ ’’ہندوؤں کو مسلمانوں کے ہوٹل میں کھانا نہیں کھانا چاہیے‘‘

مسلمان ہندوؤں کے کھانوں میں تھوک، پیشاب اور گائے کے گوشت کی ملاوٹ کرتے ہیں، یہ سلسلہ بھارت کی اترا کھنڈ، مدھیہ پردیش، راجھستان اور اتر پردیش جیسی ریاستوں تک پھیلا ہوا ہے،

عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان ریاستوں میں چھوٹے دکانداروں اور سبزی فروشوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، اتر پردیش میں بے شمار مذبح خانے غیر قانونی قرار دے کر بند کر دیے گئے ہیں،

حاجی یوسف قریشی کا کہنا ہے مودی حکومت کے اقتدار میں آتے ہی مسلمانوں کے ذریعہ معاش پر حملہ کیا گیا، دنیا بھر میں انسانی حقوق پر واویلا کرنے والی تنظیموں کو بھارت میں مسلمانوں کیخلاف اس معاشی بائیکاٹ پر آواز اٹھانا چاہئے

اپنا تبصرہ بھیجیں