28

بچوں کے ساتھ زیادتی اور دیگر جرائم کے 1,914 کیسز رپورٹ، پنجاب 80 فیصد کے ساتھ سرفہرست

**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** — جنوری سے جون 2026 کے دوران ملک بھر میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور دیگر جرائم کے **1,914 کیسز** رپورٹ ہوئے، جن میں بچوں کے جنسی استحصال، اغوا، گمشدگی، کم عمری کی شادی اور جنسی زیادتی کے بعد پورنوگرافی جیسے واقعات شامل ہیں۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق مجموعی کیسز میں:

* **1,015** بچوں کے جنسی استحصال کے کیسز رپورٹ ہوئے۔
* **558** بچوں کے اغوا کے واقعات سامنے آئے۔
* **101** بچوں کی گمشدگی کے کیسز رپورٹ ہوئے۔
* **49 نومولود بچوں** کو سڑکوں کے کنارے چھوڑے جانے کے واقعات سامنے آئے۔
* **35 کم عمری کی شادیوں** کے کیسز رپورٹ ہوئے۔
* **98 ایسے واقعات** رپورٹ ہوئے جن میں مبینہ جنسی زیادتی کے بعد بچوں کی پورنوگرافی کی گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق بچوں کے ساتھ زیادتی کے **57 فیصد کیسز شہری علاقوں** جبکہ **43 فیصد دیہی علاقوں** سے رپورٹ ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق **43 فیصد کیسز میں مبینہ ملزمان متاثرہ بچوں کے واقف کار** تھے، جبکہ **34 فیصد کیسز میں ملزمان اجنبی** تھے۔ مزید **13 فیصد کیسز میں ملزم کی حیثیت کا ذکر نہیں کیا گیا۔**

صوبائی سطح پر **پنجاب 80 فیصد کیسز کے ساتھ سرفہرست** رہا، جبکہ **سندھ سے 15 فیصد** کیسز رپورٹ ہوئے۔ **خیبرپختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان** سے مجموعی طور پر **5 فیصد کیسز** رپورٹ ہوئے۔

اعداد و شمار بچوں کے تحفظ، مؤثر قانونی کارروائی، آگاہی اور حفاظتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔

### 📢 Support HRNW

**Human Rights News Worldwide (HRNW)** بچوں کے حقوق، انسانی حقوق، عوامی آگاہی اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔ آپ کی معاونت ہماری آزاد آواز کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔

**HRNW کو سپورٹ کریں:**
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

### ⚠️ Disclaimer

**ڈسکلیمر:** یہ خبر فراہم کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ رپورٹ کیے گئے کیسز الزامات اور واقعات کی اطلاعات پر مشتمل ہوتے ہیں؛ ہر کیس میں جرم کا حتمی تعین متعلقہ قانونی و عدالتی کارروائی کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں