17

ٹاؤن شپ تھانے میں دو خواتین کی پراسرار موت، پولیس حراست میں اموات پر سنگین سوالات

**لاہور (ایچ آراین ڈبلیو)** — لاہور کے ٹاؤن شپ تھانے میں دو خواتین کی پولیس حراست کے دوران پراسرار موت نے پولیس حراست میں انسانی حقوق اور احتساب کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

پولیس کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دونوں خواتین کی **طبیعت خراب ہونے کے باعث موت واقع ہوئی**، تاہم لواحقین نے اس مؤقف پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ خواتین کی موت طبعی نہیں بلکہ **مبینہ تشدد** کے نتیجے میں ہوئی۔

اہل خانہ کے مطابق خواتین کے جسم پر مبینہ تشدد کے نشانات موجود تھے جبکہ ناک سے خون بہنے کے آثار بھی دیکھے گئے۔ لواحقین نے مزید الزام عائد کیا کہ انہیں خواتین کی موت کے بارے میں **بروقت اطلاع نہیں دی گئی** اور رات گئے بھاری پولیس نفری کی موجودگی میں تدفین کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔

یہ واقعہ پولیس حراست میں شہریوں کے تحفظ، شفاف تحقیقات اور پولیس کے احتساب کے نظام پر اہم سوالات اٹھاتا ہے۔

اگر پولیس کا مؤقف درست ہے تو **پوسٹ مارٹم، فرانزک شواہد اور غیر جانب دارانہ تحقیقات** کے ذریعے موت کی اصل وجہ واضح کی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب اگر لواحقین کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہوگی۔

انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کے تحت ہر زیرِ حراست شخص کی زندگی، عزت اور وقار کا تحفظ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ **غریب یا بے سہارا ہونا کسی شخص کا جرم نہیں، اور پولیس کی وردی کا مقصد تحفظ فراہم کرنا ہے، خوف پیدا کرنا نہیں۔**

### 📢 Support HRNW

**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، شہری آزادیوں، قانون کی حکمرانی اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔ آپ کی معاونت ہماری آزاد آواز کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔

**HRNW کو سپورٹ کریں:**
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

### ⚠️ Disclaimer

**ڈسکلیمر:** یہ خبر لواحقین کے الزامات اور پولیس کے مؤقف پر مبنی دستیاب معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ خواتین کی موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم، فرانزک شواہد اور شفاف تحقیقات کے بعد ہی سامنے آسکتی ہے۔ HRNW کسی فرد یا ادارے کو تحقیقات اور عدالتی فیصلے سے قبل قصوروار قرار نہیں دیتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں