ایک سال میں گدھوں کی تعداد میں 1لاکھ کا اضافہ،بڑی صنعتوں میں 1.5فیصد کمی ریکارڈ

ایک سال کے دوران گدھوں کی تعداد میں 1لاکھ کااضافہ ،اقتصادی سروے کی رپورٹ کے مطابق گدھوں کی تعداد 59لاکھ سے بڑھ کر 60لاکھ ہوگئی-گھوڑوں کی تعداد چار لاکھ اونٹوں کی تعداد بارہ لاکھ برقرار رہی-بھیڑوں کی تعداد 3کروڑ27لاکھ سے بڑھ کر 3کروڑ 31لاکھ رہی-ملک میں بکریوں کی تعداد میں24لاکھ کا اضافہ ہوا-بکریوں کی تعداد 8کروڑ 70لاکھ سے بڑھ کر 8کروڑ 94لاکھ ہوگئی-بھینسوں کی تعداد میں 14لاکھ کا اضافہ ہوا اہے-بھینسوں کی تعداد 4کروڑ 63لاکھ سے بڑھ کر 4کروڑ 77لاکھ ہوگئی-مویشیوں کی تعداد میں 22لاکھ کا اضافہ-مویشیوں کی تعداد 5کروڑ 75لاکھ سے بڑھ کر 5کروڑ 97لاکھ ہوگئی-

جبکہ دوسری جانب بڑی صنعتوں میں 1.5فیصد کمی ریکارڈ کی گئی-کیمیکل کے شعبے میں 5.5فیصد کمی ریکارڈ کی گئی-کان کنی کے شعبےمیں بھی 3.4فیصد کمی ریکارڈ- خوراک کے شعبے میں 0.5فیصد کمی ریکارڈ-سروسز کے شعبہ میں 2.91 فیصد ترقی ہوئی-سروسز کا شعبہ 58.40 فیصد کیساتھ جی ڈی پی کا سب سے بڑا شعبہ برقرار-صنعتی شعبے نے 4.77 فیصد ترقی کی-صنعتی شعبے میں ترقی مینوفیکچرنگ کی بحالی کے باعث ہوئی-سرمایہ کاری میں 13.8 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا-بچت سے جی ڈی پی کا تناسب مالی سال 2025 میں 14.1 فیصد تک بڑھا-ٹیکسٹائل سیکٹر میں 2.2فیصد ترقی ہوئی-ہوزری کے شعبے میں 7.6فیصد اضافہ ریکارڈ-کوک اور پیٹرولیم کے شعبے میں 4.5فیصد اضافہ ریکارڈ-فارما سوٹیکل کے شعبے میں 2.3فیصد اضاف ریکارڈ کی گئی-

دوسری جانب ٹیکس ریونیو میں 25.8فیصد اضافہ ریکارڈ-ٹیکس ریونیو9.14ٹریلین روپےرہا-نان ٹیکس ریونیو میں 68فیصد اضافہ ریکارڈ-نان ٹیکس ریونیو.23ٹریلین روپےرہا-ٹوٹل ریونیو 13.37ٹریلین روپےرہا-اخراجات میں18.3فیصد اضافہ ہوا-مالی سال 2025میں 14.59ٹریلین کے اخراجات ہوئے-ترقیاتی اخراجات میں 32.6فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا-ترقیاتی اخراجات 1.54ٹریلین روپے رہے- کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ2.6فیصد رہا-پرائمری سرپلس میں 3فیصد اضافہ ریکارڈ-

اپنا تبصرہ بھیجیں