اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)ایس ایچ او پر کچے کے ڈاکوؤں سے تعلقات اور بھتہ خوری کے الزامات-سپریم کورٹ نے سروسز ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف سندھ حکومت کی اپیل مسترد کردی-عدالت کا سروسز ٹربیونل کے فیصلے کے مطابق ایس ایچ او کو عہدے پر بحال رکھنے کا حکم-قانون کے مطابق آئی جی سندھ نے ملازمت سے برخاست کرتے وقت ایس ایچ او غلام عباس سندرانی کو سننے کا موقع نہیں دیا-کچے ڈاکوؤں اور بھتہ خوری کے الزام میں ڈی ایس پی نے ایس ایچ او اباڑو غلام عباس کے خلاف تحقیقات کیں-تحقیقات میں ڈاکوؤں کے ساتھ تعلقات اور بھتہ خوری کے الزامات ثابت ہوئے-متعلقہ ایس ایس پی نے ایس ایچ او نوکری سے برحاست کردیا-
اپیل پر ڈی آئی جی سکھر نے ایس ایچ او کو بحال کیا بعد میں آئی جی سندھ نے ایس ایچ او کو نوکری سے نکال دیا-سروسز ٹربیونل نے آئی جی سندھ کے احکامات کو کالعدم قرار دے کر ایس ایچ او کو نوکری پر بحال کردیا-سروسز ٹربیونل کے احکامات کو کالعدم قرار دیا جائے، پولیس میں کالی بھیڑوں موجودگی پر زیرو ٹالرنس ہے-سروسز ٹربیونل نے قانون کے مطابق فیصلہ دیا، قانون کے خلاف اگر احکامات ہوتے تو ضرور جائزہ لیتے-


