غزہ: غزہ کے قدیم اور معروف خاندانوں میں شمار ہونے والے خورشید خاندان نے 1965ء میں غزہ میں آنکھوں کے علاج کا مرکز قائم کیا تھا، جو نصف صدی سے زائد عرصے تک شہریوں کو آنکھوں سے متعلق طبی خدمات فراہم کرتا رہا۔
خاندان کے مرکزی کلینک کی شاخ غزہ شہر میں سوق فراس کے قریب واقع تھی، جبکہ دیگر ذیلی شاخیں مختلف علاقوں میں قائم تھیں۔ وقت کے ساتھ خورشید خاندان کا نام غزہ میں امراضِ چشم کے شعبے کے حوالے سے ایک معروف شناخت بن گیا۔
خاندان کی اگلی نسل نے بھی اسی پیشے کو جاری رکھا۔ ڈاکٹر عمر خورشید، ڈاکٹر محمد خورشید، ڈاکٹر سعید خورشید اور ڈاکٹر عمید خورشید چاروں بھائی آنکھوں کے علاج کے شعبے سے وابستہ تھے اور غزہ کے شہریوں کو طبی خدمات فراہم کرتے تھے۔
جنگ کے دوران خورشید خاندان کے چاروں بھائی جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد خاندان کا معروف کلینک بھی غیر فعال ہوگیا۔
خورشید خاندان کی کئی دہائیوں پر محیط طبی خدمات غزہ میں آنکھوں کے علاج کے شعبے سے اس خاندان کی وابستگی کی عکاس ہیں۔


