**تہران — (ایچ آراین ڈبلیو)**ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی بغیر پائلٹ زیرِ آب گاڑی **REMUS 600** قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایرانی دعوے کی تردید کردی ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے مطابق ایک انٹیلی جنس اور الیکٹرانک وارفیئر آپریشن کے دوران امریکی زیرِ آب ڈرون کو روکا گیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ REMUS 600 کو ایرانی ماہرین کے حوالے کردیا گیا ہے تاکہ اس میں موجود ڈیٹا کا جائزہ لیا جاسکے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے ایرانی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج اپنے تمام آپریشنل ڈرون اثاثوں پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔
یوں آبنائے ہرمز میں زیرِ آب ڈرون کے معاملے پر ایران اور امریکا کے مؤقف میں واضح تضاد سامنے آیا ہے۔ دستیاب رپورٹس میں ایرانی دعوے اور امریکی تردید کے علاوہ واقعے کی آزادانہ تصدیق یا مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
REMUS 600 ایک خودکار زیرِ آب گاڑی ہے جسے سمندری نگرانی، زیرِ آب نقشہ سازی اور مائن کاؤنٹر میژرز سمیت مختلف بحری مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
آبنائے ہرمز عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے اہم آبی گزرگاہ ہے۔ خطے میں فوجی کشیدگی یا زیرِ آب فوجی سرگرمیوں میں اضافے سے تجارتی جہازوں، عملے اور علاقائی شہریوں کے تحفظ پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
ایسے واقعات میں درست معلومات کی بروقت فراہمی، آزادانہ تصدیق اور فریقین کے دعووں کو واضح طور پر الگ الگ پیش کرنا ضروری ہے تاکہ غیر مصدقہ اطلاعات کو حتمی حقیقت کے طور پر نہ سمجھا جائے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر ایرانی حکام کے دعوے اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے ردِعمل کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ واقعے کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں، اس لیے کسی ایک فریق کے مؤقف کو حتمی حقیقت قرار نہیں دیا گیا۔ صورتحال سے متعلق مزید معلومات سامنے آنے پر تفصیلات تبدیل ہوسکتی ہیں۔


