8

ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی امریکی مہم پر تہران کا ردعمل

**تہران — (ایچ آراین ڈبلیو)**ایران نے امریکا کی جانب سے دیگر ممالک پر تہران کے ساتھ اقتصادی تعلقات محدود کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خودمختار ممالک ایران کے ساتھ اپنے تجارتی اور اقتصادی تعلقات کا فیصلہ اپنے قومی مفادات اور ترجیحات کے مطابق کریں گے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے مختلف ممالک سے رابطوں کے لیے اپنی ٹیمیں بھیجی ہیں تاکہ ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی کوشش کی جاسکے۔

غریب آبادی نے امریکی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی وزیر خزانہ ایسے انداز میں بات کر رہے ہیں جیسے دنیا امریکا کا “پچھواڑا” ہو۔ ان کے مطابق آزاد حکومتیں ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات کے بارے میں اپنے مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں، نہ کہ امریکی محکمہ خزانہ کے احکامات پر۔

انہوں نے مزید کہا کہ دھمکیوں اور پابندیوں کے ذریعے اپنی مرضی دوسروں پر مسلط کرنے کا دور ختم ہونے کے قریب ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف معاشی دباؤ بڑھانے کی امریکی حکمت عملی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن مختلف ممالک سے رابطے کر رہا ہے تاکہ ایران کو معاشی طور پر تنہا کیا جاسکے۔ امریکی مؤقف کے مطابق اس مہم کا مقصد تہران پر اقتصادی دباؤ میں اضافہ کرنا ہے۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان اقتصادی پابندیوں، جنگ، آبنائے ہرمز اور ممکنہ سفارتی مذاکرات سمیت متعدد معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کی مکمل معاشی تنہائی پر زور دیا تھا، جبکہ ایرانی حکام نے سفارتی راستے کی بحالی پر زور دیا ہے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

اقتصادی پابندیوں اور بین الاقوامی تجارتی پابندیوں کے اثرات عام شہریوں، روزگار، خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریات تک رسائی پر پڑ سکتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی معاشی دباؤ کی پالیسی میں عام شہریوں پر ممکنہ اثرات، انسانی ضروریات اور بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھنا اہم ہے۔

اسی طرح خودمختار ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات سے متعلق فیصلوں میں شفافیت، بین الاقوامی قوانین اور شہری آبادی کے مفادات کو اہمیت دینا ضروری ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری اختلافات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع کا استعمال خطے میں مزید کشیدگی کے ممکنہ اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور عالمی معاملات کی آزادانہ اور ذمہ دارانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر ایرانی اور امریکی حکام کے عوامی بیانات اور دستیاب میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ فریقین کے سیاسی و معاشی دعووں کو ان کے متعلقہ مؤقف کے طور پر بیان کیا گیا ہے، آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق کے طور پر نہیں۔ جاری تنازع اور سفارتی صورتحال تیزی سے تبدیل ہوسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں