**لندن — (ایچ آراین ڈبلیو)**برطانیہ میں امریکی فضائیہ کے زیرِ استعمال **آر اے ایف فیئرفورڈ (RAF Fairford)** ایئربیس کے قریب پولیس نے پانچ افراد کو گرفتار کرلیا، جس کے بعد علاقے میں بڑا سکیورٹی آپریشن کیا گیا۔
برطانوی پولیس کے مطابق اتوار کی صبح تقریباً 12 بج کر 45 منٹ پر تین مشکوک گاڑیوں کے ایئربیس کی جانب بڑھنے کی اطلاع موصول ہوئی۔ مسلح پولیس اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے پانچ افراد کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار افراد کو ابتدائی طور پر ایکسپلوزوز ایکٹ کے تحت جرائم کے شبہے میں حراست میں لیا گیا، بعد ازاں انہیں مبینہ طور پر دہشت گرد کارروائی کی تیاری کے شبہے میں بھی گرفتار کیا گیا۔ انسدادِ دہشت گردی پولیس نے تحقیقات کی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔
واقعے کے بعد برطانوی فوج کی بم ڈسپوزل ٹیم نے مشتبہ گاڑیوں کا معائنہ کیا، جبکہ گاڑیوں کے گرد تقریباً 400 میٹر کا حفاظتی حصار قائم کیا گیا۔
حفاظتی اقدام کے طور پر قریبی علاقے کے تقریباً **85 گھروں** کے رہائشیوں کو عارضی طور پر اپنے گھروں سے نکلنے کی ہدایت کی گئی اور انہیں قریبی مقام پر منتقل کیا گیا۔
برطانوی حکام کے مطابق پانچوں افراد زیرِحراست ہیں اور تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ گرفتار افراد کی شناخت، قومیت اور مبینہ منصوبے کے مقصد کے بارے میں حکام نے تاحال حتمی معلومات جاری نہیں کیں۔
رپورٹس کے مطابق حکام مختلف ممکنہ محرکات کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم کسی مخصوص ملک یا گروہ کو ذمہ دار قرار دینے کے حوالے سے تحقیقات مکمل نہیں ہوئیں۔ برطانوی حکام نے بھی تحقیقات کے دوران قیاس آرائی سے گریز پر زور دیا ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
سکیورٹی خطرے کے پیش نظر شہریوں کا بروقت انخلا اور ان کی حفاظت ریاستی اداروں کی اہم ذمہ داری ہے۔ اسی طرح گرفتار افراد کے قانونی حقوق، منصفانہ تفتیش اور قانونی کارروائی کے تقاضوں کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔
کسی بھی ممکنہ دہشت گردی کے معاملے میں حتمی شواہد اور تحقیقات مکمل ہونے سے قبل گرفتار افراد کو مجرم قرار دینا مناسب نہیں۔ عوام کو بھی غیر مصدقہ اطلاعات اور قیاس آرائیوں کے بجائے متعلقہ حکام کی تصدیق شدہ معلومات پر انحصار کرنا چاہیے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر برطانوی پولیس اور معتبر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ گرفتار افراد کے خلاف الزامات ابھی تحقیقات کے مرحلے میں ہیں اور انہیں کسی جرم کا حتمی مرتکب قرار نہیں دیا گیا۔ واقعے کے محرکات اور دیگر تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واضح ہوسکتی ہیں۔


