**نیویارک (ایچ آراین ڈبلیو)** — وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے عوام کے لیے متعارف کرائی گئی **100 روپے فی لیٹر تک کی ہدفی پیٹرول سبسڈی** پر آئی ایم ایف نے کوئی سنگین اعتراض نہیں اٹھایا۔
وزیراعظم نے یہ بات نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔
رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے آئی ایم ایف حکام کو کم آمدنی والے طبقے کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ریلیف اسکیم ایک ہدفی اور شفاف طریقہ کار کے تحت چلائی جا رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے پہلے ہی موٹر سائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے ہدفی فیول ریلیف اسکیم شروع کی جا چکی ہے، جس کے تحت مخصوص صارفین کو پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 100 روپے تک ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم نے آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے جاری اصلاحاتی پروگرام پر عملدرآمد کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔
### Human Angle
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست کم آمدنی والے گھرانوں، موٹر سائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیوروں اور روزانہ آمدورفت پر انحصار کرنے والے افراد کے اخراجات کو متاثر کرتا ہے۔ ہدفی ریلیف کا بنیادی مقصد ایسے شہریوں پر بڑھتے ہوئے ایندھن کے اخراجات کا اثر کم کرنا ہے۔
### HRNW Support Appeal
Human Rights News Worldwide (HRNW) انسانی حقوق، شہری آزادیوں، انصاف اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔ آپ کی حمایت HRNW کو دنیا بھر میں انسانی حقوق اور عوامی آگاہی کے اپنے مشن کو جاری رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
**اہم نوٹ / Disclaimer:** یہ رپورٹ وزیراعظم کے بیان، سرکاری معلومات اور دستیاب معتبر رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ سبسڈی کے طریقۂ کار اور آئندہ پیش رفت سے متعلق حتمی فیصلے متعلقہ حکام کے اعلان سے مشروط ہوں گے۔


