**دبئی (ایچ آراین ڈبلیو)** — سابق بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا سے متعلق سوشل میڈیا پر ایک دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے اذہان کے لیے قرآن حفظ کرانے کی غرض سے پاکستانی استاد محمد سلیم خان کی خدمات حاصل کی ہیں۔
گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق یہ معاملہ دبئی میں ثانیہ مرزا کی رہائش گاہ پر ہونے والی ایک تقریب کے بعد بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آیا، جہاں استاد کی پاکستانی شہریت کو بنیاد بنا کر مختلف تبصرے کیے گئے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک بیان میں ثانیہ مرزا سے منسوب کیا گیا ہے کہ ان کے ذاتی اور خاندانی معاملات میں مداخلت نہیں کی جانی چاہیے، جبکہ بعض پوسٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے بھارت آنے سے متعلق کسی پابندی کی پروا نہ کرنے کا مؤقف اختیار کیا۔
تاہم، مذکورہ بیانات اور بھارتی میڈیا کی جانب سے عائد کیے گئے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق دستیاب مواد کی بنیاد پر نہیں ہو سکی۔ اس لیے ان دعوؤں کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
### Human Angle
بچوں کی تعلیم، مذہبی تربیت اور والدین کے خاندانی فیصلے ذاتی معاملات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسے معاملات میں عوامی بحث کے دوران مذہبی، قومی یا سیاسی شناخت کی بنیاد پر کسی فرد یا خاندان کو نشانہ بنانے کے بجائے رازداری، باہمی احترام اور بچے کے مفاد کو اہمیت دینا ضروری ہے۔
### HRNW Support Appeal
Human Rights News Worldwide (HRNW) انسانی حقوق، شہری آزادیوں، انصاف اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔ آپ کی حمایت HRNW کو دنیا بھر میں انسانی حقوق اور عوامی آگاہی کے اپنے مشن کو جاری رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
**اہم نوٹ / Disclaimer:** یہ رپورٹ دستیاب سوشل میڈیا مواد اور گردش کرنے والی اطلاعات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ثانیہ مرزا سے منسوب بیانات اور بعض میڈیا دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ HRNW بیرونی ذرائع کے دعوؤں کی صحت کا ذمہ دار نہیں اور غیر مصدقہ اطلاعات کو حتمی حقیقت قرار نہیں دیتا۔


