26

خطے کی ترقی کے لیے افغان سرزمین سے دہشتگردی روکنا ناگزیر ہے: نائب وزیراعظم

**نیویارک (ایچ آراین ڈبلیو)**نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور معاشی ترقی کے لیے افغان سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ضروری ہے۔

اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے 27ویں وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے علاقائی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی تقریباً 50 کروڑ آبادی کی ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں جبکہ ای سی او ممالک کے درمیان تجارت کا حجم موجودہ علاقائی تجارت کا تقریباً 8 فیصد ہے، جس میں اضافے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتا ہے۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ اور خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

اسحاق ڈار نے وسطی ایشیا کو بحیرہ عرب کی بندرگاہوں سے جوڑنے والے علاقائی کوریڈور منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی خطے کی زرعی اور آبی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے پائیدار توانائی اور موسمیاتی مزاحمت رکھنے والے بنیادی ڈھانچے میں تعاون ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے کے لیے گیٹ وے کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس مقصد کے لیے ای سی او کے آزاد تجارتی علاقے کو مؤثر اور ڈیجیٹل بنانا ہوگا۔ ان کے مطابق افغان سرزمین کا دہشتگردی کے لیے استعمال علاقائی استحکام کے لیے ایک مسلسل چیلنج ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک مستحکم، پُرامن اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے اور اسی مقصد کے تحت طالبان حکومت کے ساتھ دوطرفہ روابط، بشمول ٹرانزٹ تجارت، کو فروغ دینے کی کوششیں کی گئی ہیں۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے طالبان حکومت کی جانب سے ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات ضروری ہیں۔ پاکستان نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایک پُرامن اور مستحکم افغانستان کے لیے علاقائی و بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

اسحاق ڈار نے ازبکستان، افغانستان اور پاکستان ریلوے منصوبے کو بھی پاکستان کی ترجیحات میں شامل قرار دیا اور کہا کہ طالبان حکومت سے پاکستان کی بنیادی توقع اپنے جائز سیکیورٹی خدشات کا مستقل حل ہے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

افغانستان میں امن و استحکام کا براہِ راست تعلق خطے کے عوام کی سلامتی، تجارت، روزگار، نقل و حمل اور معاشی ترقی سے ہے۔ دہشتگردی کے خلاف اقدامات کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کے تحفظ، انسانی حقوق، انسانی امداد اور پرامن علاقائی روابط کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھی ایک مستحکم اور خوشحال افغانستان کے لیے باہمی احترام، سیاسی عزم اور علاقائی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

## HRNW Support Appeal

ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW) انسانی حقوق، عوامی مفاد اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہماری صحافتی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے آپ کی معاونت اہم ہے۔

**HRNW کی معاونت کے لیے:**
https://www.hrnww.com/?page_id=1083

## Disclaimer

اس خبر میں سیاسی، سفارتی اور سیکیورٹی معاملات سے متعلق بیانات متعلقہ حکام اور سرکاری ذرائع سے منسوب ہیں۔ HRNW کسی فریق کے دعوے یا مؤقف کو اپنی آزادانہ رائے کے طور پر پیش نہیں کرتا۔ خبر میں شامل معلومات دستیاب سرکاری بیانات اور متعلقہ رپورٹنگ کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہیں۔

**اصل خبر:**
https://www.express.pk/story/2834796/halting-terrorism-emanating-from-afghan-soil-is-essential-for-the-regions-development-deputy-prime-minister-2834796/

اپنا تبصرہ بھیجیں