**نئی دہلی (ایچ آراین ڈبلیو)** — بھارت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران مساجد، مدارس، مزارات اور دیگر مسلم مذہبی و کمیونٹی املاک کے خلاف ہونے والی انہدامی کارروائیوں پر انسانی حقوق اور مذہبی آزادی سے متعلق حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مسلم نیٹ ورک ٹی وی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 2020 سے 2026 کے دوران بھارت کی مختلف ریاستوں میں مسلم مذہبی و کمیونٹی املاک کے خلاف **2,100 سے زائد رپورٹ شدہ کارروائیوں، ڈھانچوں یا مجموعی اعداد** کا ریکارڈ سامنے آیا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تعداد 2,166 انفرادی طور پر تصدیق شدہ انہداموں کا حتمی شمار نہیں، بلکہ مختلف سرکاری بیانات، عدالتی ریکارڈ، میڈیا رپورٹس، جزوی انہداموں اور مجموعی سرکاری اعداد پر مشتمل ہے، جن میں بعض معاملات میں باہمی ربط یا اوورلیپ بھی ہوسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ کارروائیاں اتر پردیش، اتراکھنڈ، گجرات، دہلی، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، راجستھان، تلنگانہ اور آسام سمیت مختلف ریاستوں میں سامنے آئی ہیں۔ حکام کی جانب سے بیشتر کارروائیوں کے لیے مبینہ تجاوزات، غیر قانونی تعمیرات، سرکاری یا جنگلات کی زمین پر قبضے اور سڑکوں کی توسیع جیسے انتظامی و قانونی جواز پیش کیے گئے ہیں۔
## شالیمار باغ میں مسجد کے حصے کا انہدام
دہلی کے شالیمار باغ میں ستمبر 2026 میں ایک انہدامی کارروائی کے دوران مسجد کے ایک حصے اور بعض گھروں کو منہدم کیا گیا۔ مقامی رہائشیوں اور مسجد کمیٹی کے ارکان نے مناسب پیشگی اطلاع نہ ملنے کے حوالے سے تحفظات ظاہر کیے، جبکہ میونسپل حکام کے مطابق کارروائی سڑک کی توسیع کے منصوبے سے متعلق تھی اور نوٹس جاری کیے گئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق مسلم مذہبی مقامات کے خلاف حالیہ کارروائیوں میں مساجد، مزارات اور مدارس بھی شامل رہے ہیں۔ جون 2026 میں مسلم نیٹ ورک ٹی وی نے چھ بھارتی ریاستوں میں 45 روز کے دوران کم از کم 23 مسلم مذہبی مقامات کے انہدام کی رپورٹ بھی شائع کی تھی۔
بھارتی حکام عمومی طور پر ان کارروائیوں کو تجاوزات اور زمین یا شہری منصوبہ بندی کے قوانین کے نفاذ سے جوڑتے ہیں اور مذہبی بنیادوں پر کارروائی کی تردید کرتے ہیں۔ دوسری جانب مسلم تنظیمیں اور بعض حقوق کے گروہ ان کارروائیوں کے طریقہ کار، قانونی عمل اور بعض علاقوں میں قانون کے یکساں نفاذ پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔
### انسانی حقوق اور عوامی مفاد
مذہبی مقامات اور کمیونٹی املاک سے متعلق کسی بھی انتظامی کارروائی میں قانون کے یکساں نفاذ، مناسب پیشگی اطلاع، مؤثر قانونی سماعت اور عدالتی احکامات کی پاسداری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے آئینی حقوق کا تحفظ بھی عوامی مفاد اور انسانی حقوق کا اہم حصہ ہے۔
### HRNW Support Appeal
ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW) انسانی حقوق، مذہبی آزادی، قانون کی حکمرانی اور عوامی مفاد سے متعلق معاملات کو اجاگر کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔ ادارے کی صحافتی اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں میں تعاون کے لیے:
**Support HRNW:**
### Disclaimer
یہ خبر دستیاب میڈیا رپورٹس، متعلقہ اداروں کے بیانات اور رپورٹ شدہ اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ **2,166** کا عدد ایک compilation ہے اور اسے 2,166 انفرادی طور پر تصدیق شدہ انہداموں کی حتمی تعداد نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ انہدامی کارروائیوں کے قانونی جواز سے متعلق سرکاری مؤقف اور متاثرہ افراد و حقوق کے اداروں کے اعتراضات کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔
**اصل خبر:**
https://www.express.pk/story/2834785/bjp-and-hindutva-agenda-against-women-2834785/


