25

چینی صدر شی جن پنگ کا امریکا میں غیر معمولی استقبال، ٹرمپ نے خود ایئرپورٹ پر خیرمقدم کیا

**واشنگٹن — (ایچ آراین ڈبلیو)**چینی صدر شی جن پنگ کے امریکا پہنچنے پر غیر معمولی استقبال کیا گیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پروٹوکول سے ہٹ کر خود جوائنٹ بیس اینڈریوز پہنچ کر چینی صدر اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کا خیرمقدم کیا۔

23 ستمبر کو واشنگٹن کے قریب امریکی فوجی اڈے پر شی جن پنگ کی آمد کے موقع پر دونوں صدور اور ان کی اہلیاؤں نے ملاقات کی۔ چینی صدر کے استقبال کے لیے ریڈ کارپٹ بچھایا گیا جبکہ امریکی اور چینی قومی ترانے بھی بجائے گئے۔

استقبالی تقریب میں چینی صدر کو **21 توپوں کی سلامی** دی گئی، جو کسی غیر ملکی سربراہِ مملکت کے لیے دی جانے والی اعلیٰ فوجی اعزازات میں شمار ہوتی ہے۔ تقریب میں امریکی فوج کے دستے بھی موجود تھے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی فوجی طیاروں نے بھی فلائی پاسٹ کیا، جس میں بی-1 بمبار طیارے شامل تھے۔ طیاروں کی گونج کے دوران صدر ٹرمپ کے چہرے کے تاثرات بھی کیمروں کی توجہ کا مرکز بنے۔

یہ استقبال اس لیے بھی غیر معمولی قرار دیا گیا کہ امریکی صدر عام طور پر غیر ملکی سربراہان کا استقبال وائٹ ہاؤس میں کرتے ہیں، جبکہ ٹرمپ نے خود ایئرپورٹ پر پہنچ کر شی جن پنگ کا خیرمقدم کیا۔ رپورٹس کے مطابق یہ جوائنٹ بیس اینڈریوز پر کسی غیر ملکی رہنما کے لیے امریکی صدر کی جانب سے ایسا ذاتی استقبال کئی دہائیوں بعد دیکھنے میں آیا ہے۔

شی جن پنگ کا یہ دورہ امریکا اور چین کے درمیان تجارت، مصنوعی ذہانت، ایران سمیت علاقائی معاملات اور دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کے تناظر میں ہورہا ہے۔ چینی صدر نے امریکا پہنچنے پر دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور مستحکم تعلقات کی ضرورت پر زور دیا۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

امریکا اور چین دنیا کی بڑی معاشی و سیاسی طاقتیں ہیں، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے عالمی تجارت، معیشت، سلامتی اور علاقائی معاملات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں اختلافات کے باوجود سفارتی رابطے اور مذاکرات کا تسلسل عالمی کشیدگی کم کرنے اور باہمی معاملات کو پرامن طریقے سے حل کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر دستیاب بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور سرکاری معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ استقبال کی نوعیت، فوجی تقریب اور دونوں رہنماؤں کے بیانات سے متعلق معلومات کو متعلقہ ذرائع سے منسوب کیا گیا ہے۔ خبر میں کسی سفارتی اقدام یا سیاسی تعلقات کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی شامل نہیں کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں