6

پاکستان میں دہشت گردی، افغان عناصر سے متعلق شواہد سامنے آنے کا سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان عناصر کے ملوث ہونے اور بیرونی معاونت سے متعلق نئے شواہد سامنے آنے کا سیکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مستونگ حملے میں ہلاک ہونے والے فتنہ الہندوستان سے وابستہ مبینہ دہشت گردوں میں افغان شہری بھی شامل تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے ذوالفقار عرف ابو عمر سے افغان جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس (جی ڈی آئی) کا کارڈ، جبکہ خلیل احمد سے افغان تذکرہ برآمد ہوا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور افغان طالبان انٹیلی جنس کے درمیان مبینہ رابطوں سے متعلق ایک انٹیلی جنس رپورٹ پہلے بھی سامنے آچکی ہے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 2025 میں ’را‘ اور افغان طالبان انٹیلی جنس کے درمیان ایک مبینہ خفیہ نیٹ ورک موجود تھا، جبکہ بلوچستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کے لیے 78 لاکھ ڈالر کی مبینہ ادائیگی کی گئی۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ ملا ہبۃ اللہ کی ہدایات پر فتنہ الہندوستان سے وابستہ مبینہ عناصر کو جدید اسلحہ اور لاجسٹک معاونت فراہم کی گئی۔ سیکیورٹی ذرائع نے ایک مبینہ خط کا بھی حوالہ دیا جس میں طالبان کی جانب سے اس گروہ کو اسلحہ فراہم کرنے کا ذکر ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع نے الزام عائد کیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے تربیت، مالی معاونت اور پناہ گاہوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ افغان یا بھارتی حکام کا مؤقف اس رپورٹ میں شامل نہیں۔

حالیہ دنوں میں پاکستانی حکام نے بھی افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں اور افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف مبینہ استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغان طالبان پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کریں۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

دہشت گردی کے واقعات میں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانوں کا تحفظ بنیادی انسانی حق ہے۔ دہشت گردی سے متعلق کسی بھی دعوے یا شواہد کی غیر جانب دارانہ، قابلِ تصدیق اور قانونی طریقہ کار کے مطابق تحقیقات ضروری ہیں تاکہ ذمہ دار عناصر کا درست تعین کیا جاسکے۔

افغان شہریوں یا کسی مخصوص قومیت سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف اجتماعی الزام تراشی سے گریز بھی ضروری ہے۔ کسی فرد کی قومیت یا شناخت بذاتِ خود اس کی مجرمانہ ذمہ داری ثابت نہیں کرتی۔ دہشت گردی میں ملوث افراد کا تعین انفرادی شواہد اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر سیکیورٹی ذرائع اور دستیاب میڈیا رپورٹ کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ’را‘، افغان طالبان یا کسی فرد و گروہ سے متعلق بیان کردہ الزامات کو آزادانہ طور پر ثابت شدہ عدالتی حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ ان دعوؤں کی حتمی حیثیت کے لیے قابلِ تصدیق شواہد، متعلقہ حکام کا مؤقف اور آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں