9

صوبے مکمل طور پر خودمختار نہیں، سندھ اپنی نیوی نہیں بنا سکتا: طلال چوہدری

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے خیبر پختونخوا کے مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبوں کو آئین کے تحت اختیارات حاصل ہیں، تاہم ان کے قانون سازی کے اختیارات لامحدود نہیں ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ سندھ اپنی نیوی اور پنجاب اپنی ریلوے قائم نہیں کرسکتا، اسی طرح صوبے پاکستان پولیس سروس (PSP) کے قواعد کو اپنی قانون سازی کے ذریعے تبدیل نہیں کرسکتے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس سے متعلق وفاقی قوانین اور قواعد کو صوبائی قانون سازی سے متصادم نہیں کیا جاسکتا۔

وزیر مملکت نے خیبر پختونخوا کے مجوزہ پولیس ایکٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں پولیس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے پر اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مصروف پولیس فورس کے کمانڈ سٹرکچر اور ڈسپلن کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔

طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ مجوزہ قانون کے تحت پولیس افسران کی تقرریوں اور تبادلوں سے متعلق اختیارات صوبائی حکومت کے پاس زیادہ مرتکز ہوجائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے پولیس کے انتظامی ڈھانچے اور پیشہ ورانہ نظم و ضبط سے متعلق سوالات پیدا ہوسکتے ہیں۔

دوسری جانب دستیاب رپورٹس کے مطابق خیبر پختونخوا کابینہ نے پولیس ایکٹ 2017 کی جگہ نیا قانون لانے کی تجویز منظور کی ہے، جس میں آئی جی پولیس کے آپریشنل، انتظامی اور مالی اختیارات میں تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ مجوزہ قانون ابھی صوبائی اسمبلی کے مرحلے میں جانا ہے۔

طلال چوہدری نے خیبر پختونخوا پولیس کو درپیش وسائل کی کمی کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ پولیس اہلکاروں کو مناسب حفاظتی سازوسامان، بلٹ پروف جیکٹس، گاڑیاں اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کسی بھی ایسی قانون سازی پر پارلیمنٹ میں جانے کا اختیار رکھتی ہے جس کے بارے میں اس کا مؤقف ہو کہ وہ آئین یا وفاقی قوانین سے متصادم ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضرورت پڑنے پر قانون سازی کے ذریعے معاملے کو آگے بڑھایا جائے گا۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

پولیس کے انتظامی اور کمانڈ سٹرکچر سے متعلق قانون سازی کا براہِ راست تعلق امن و امان، شہریوں کے تحفظ اور قانون کے یکساں نفاذ سے ہے۔ اس لیے ایسی قانون سازی میں آئینی دائرۂ اختیار، پولیس کی پیشہ ورانہ خودمختاری، منتخب حکومت کی نگرانی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے درمیان قانونی توازن واضح رہنا ضروری ہے۔

مجوزہ قانون پر وفاقی اور صوبائی حکومت کے مختلف مؤقف سامنے آئے ہیں، اس لیے حتمی قانونی حیثیت کا تعین پارلیمانی عمل اور ضرورت پڑنے پر عدالتی تشریح کے ذریعے ہوگا۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

اس خبر میں طلال چوہدری کی جانب سے پریس کانفرنس میں دیے گئے سیاسی اور قانونی مؤقف کو ان سے منسوب کرکے بیان کیا گیا ہے۔ مجوزہ خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2026 سے متعلق حتمی قانونی حیثیت اور اس کے ممکنہ اثرات کا تعین قانون سازی کے مکمل عمل اور متعلقہ آئینی و قانونی فورمز کی تشریح کے بعد ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں