**ادیس ابابا — (ایچ آراین ڈبلیو)**ایتھوپیا کے شمالی علاقے ٹگرائے میں حکومت اور ٹگرائے پیپلز لبریشن فرنٹ (TPLF) سے وابستہ فورسز کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر مسلح تصادم میں تبدیل ہوگئی ہے، جس کے بعد خطے میں دوبارہ وسیع پیمانے پر جنگ چھڑنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
تازہ اطلاعات کے مطابق ٹگرائے فورسز نے علاقائی دارالحکومت میکیلے سمیت شائر اور اکسوم کے ایئرپورٹس پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مختلف مقامی اور سکیورٹی ذرائع نے میکیلے ایئرپورٹ پر ٹگرائے فورسز کے کنٹرول کی تصدیق کی ہے، جبکہ دیگر ایئرپورٹس سے متعلق اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
صورتحال کے باعث ایتھوپین ایئرلائنز نے میکیلے، شائر اور اکسوم کے لیے اپنی پروازیں معطل کردی ہیں۔ ایئرلائنز نے پروازوں کی معطلی کی وجہ ٹگرائے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال بتائی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹگرائے فورسز اور وفاقی حکومت کی فوج کے درمیان پڑوسی علاقے عفار کے ابالا اور ایربتی سمیت مختلف علاقوں میں بھی جھڑپیں ہوئی ہیں۔ عفار کی علاقائی حکومت نے ابالا میں حملے کی تصدیق کی ہے، جبکہ ایک غیر ملکی سکیورٹی ذریعے نے بھی وہاں ٹگرائے فورسز کے کنٹرول کی اطلاع دی ہے۔ تاہم بعض دیگر علاقوں پر قبضے اور وفاقی فوج کی پسپائی سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
ٹگرائے کی علاقائی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس کی فوجی کارروائی وفاقی فورسز کی جانب سے طیاروں، ڈرونز اور توپ خانے کے مبینہ حملوں کے جواب میں کی گئی۔ ان حملوں سے متعلق بعض دعووں کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
تازہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب TPLF نے ایتھوپیا کے دیگر مسلح گروہوں کے ساتھ ایک نیا اتحاد قائم کیا ہے۔ اس اتحاد میں امہارا کے فانو گروپ سمیت متعدد مسلح تنظیمیں شامل ہیں۔
ایتھوپیا میں ٹگرائے اور وفاقی حکومت کے درمیان 2020 سے 2022 تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد نومبر 2022 میں پریٹوریا امن معاہدے کے ذریعے لڑائی روکی گئی تھی۔ تاہم حالیہ مہینوں میں دوبارہ جھڑپوں اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ تقریباً 10 لاکھ افراد اب بھی بے گھر ہیں۔ افریقی یونین کے مطابق سابقہ جنگ میں تقریباً 6 لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
افریقی یونین نے تازہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری کشیدگی میں کمی اور فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی پر زور دیا ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
مسلح تصادم میں سب سے زیادہ خطرہ عام شہریوں کی جان و مال اور بنیادی ضروریات کو لاحق ہوتا ہے۔ ٹگرائے میں دوبارہ لڑائی بڑھنے کی صورت میں نقل مکانی، خوراک، علاج، تعلیم اور انسانی امداد تک رسائی مزید متاثر ہوسکتی ہے۔
تمام فریقین پر لازم ہے کہ شہریوں کو نشانہ بنانے سے گریز کریں، بین الاقوامی انسانی قانون کے تقاضوں کی پابندی کریں اور انسانی امدادی اداروں کو متاثرہ آبادی تک محفوظ رسائی فراہم کریں۔ تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی کوششیں بھی اہم ہیں۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر دستیاب بین الاقوامی میڈیا، مقامی ذرائع اور متعلقہ فریقین کے بیانات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ٹگرائے فورسز کے بعض علاقوں پر قبضے اور فوجی پیش قدمی سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہوسکی۔ خبر میں کسی فریق کے دعوے کو حتمی اور غیر متنازع حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔


