13

ایرانی وفد نیویارک سے واپس کیسے جائے گا؟ امریکی وزیر خزانہ نے سوال اٹھا دیا

**نیویارک — (ایچ آراین ڈبلیو)**امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے باعث ایرانی فضائی شعبے کو درپیش مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آنے والا ایرانی وفد واپس وطن کیسے جائے گا۔

اسکاٹ بیسنٹ نے امریکی معاشی دباؤ کی مہم **”آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ”** کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران پر غیر معمولی معاشی دباؤ ڈال رہا ہے۔ ان کے مطابق پابندیوں کے نتیجے میں ایران سے بیرونِ ملک جانے والی 80 سے 90 فیصد تک پروازیں متاثر یا بند ہوچکی ہیں۔ یہ شرح امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ ہے اور اسے آزادانہ طور پر مجموعی طور پر تصدیق شدہ اعداد و شمار کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔

ایران کے فضائی شعبے کو حالیہ عرصے میں امریکی پابندیوں اور بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کا سامنا ہے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق ایرانی ایئرلائن ماہان ایئر نے استنبول، انقرہ اور مسقط سمیت بعض بین الاقوامی روٹس پر پروازیں معطل کی ہیں، جبکہ ایران آنے اور جانے والی متعدد پروازیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایرانی فضائی رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور بعض ممالک کے ساتھ پروازیں اب بھی جاری ہیں۔ اس صورتحال میں ایرانی وفد کی واپسی کے لیے دستیاب محدود پروازوں یا متبادل فضائی راستوں سے استفادہ کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی حکومت نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت ایک محدود ایرانی وفد کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے ویزے جاری کیے تھے۔ تاہم امریکی حکام کے مطابق وفد کے ارکان کی نقل و حرکت پر مخصوص پابندیاں عائد کی گئی تھیں اور انہیں نیویارک میں مخصوص مقامات تک محدود رکھا گیا تھا۔

دریں اثنا، امریکی پابندیوں کے باعث ایرانی ایئرلائنز اور ان سے منسلک زمینی خدمات پر دباؤ میں اضافے سے ایران کے بین الاقوامی فضائی رابطوں کے مزید متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ 24 ستمبر کو ایران کی ایئرلائنز کی متحدہ عرب امارات کے لیے پروازیں بھی منسوخ ہونے کی اطلاع دی گئی۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

بین الاقوامی پابندیوں اور فضائی رابطوں میں رکاوٹوں کے اثرات صرف حکومتی یا سفارتی وفود تک محدود نہیں رہتے بلکہ عام شہریوں، مریضوں، طلبہ، کاروباری افراد اور بیرونِ ملک سفر کرنے والے خاندانوں کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔ اس لیے پابندیوں کے نفاذ کے دوران انسانی بنیادوں پر ضروری سفر، طبی سہولیات اور شہریوں کی بنیادی ضروریات تک رسائی کو مدنظر رکھنا اہم ہے۔

اقوام متحدہ کے اجلاس میں شریک سفارتی وفود کی آمد و رفت کے حوالے سے بھی میزبان ملک اور متعلقہ ریاستوں کے درمیان سفارتی و قانونی ذمہ داریوں کو واضح رکھنا ضروری ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے بیان اور دستیاب بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ایران سے بیرونِ ملک جانے والی 80 سے 90 فیصد پروازوں کے متاثر یا بند ہونے کا عدد امریکی حکام کا دعویٰ ہے؛ اسے آزادانہ طور پر تصدیق شدہ مجموعی اعداد و شمار نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ فضائی رابطوں اور پابندیوں کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہوسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں