**نیویارک — (ایچ آراین ڈبلیو)**ترک صدر رجب طیب اردوان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو کا کام مزید تاخیر کے بغیر شروع کیا جائے اور علاقے کی بحالی کے لیے اسرائیل پر زیادہ دباؤ ڈالا جائے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب اردوان نے کہا کہ غزہ کی تعمیرِ نو فوری طور پر شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اس سلسلے میں اسرائیل پر دباؤ بڑھایا جائے۔
ترک صدر نے غزہ کی انسانی صورتِ حال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں بچوں سمیت بڑی تعداد میں شہری متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم نہ کرنے والے ممالک سے بھی اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی کے باعث تعمیرِ نو ایک اہم چیلنج بنی ہوئی ہے۔ حالیہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جنگ سے متاثرہ عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کا عمل ابھی تک محدود رہا ہے، جبکہ لاکھوں افراد کو رہائش اور بنیادی سہولیات کے مسائل کا سامنا ہے۔
اردوان کا مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کی تعمیرِ نو، انسانی امداد اور مستقبل کے انتظامی و سکیورٹی انتظامات سے متعلق بین الاقوامی سطح پر بات چیت جاری ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
جنگ سے متاثرہ شہریوں کے لیے محفوظ رہائش، صاف پانی، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی بحالی انسانی حقوق اور عوامی بہبود کے بنیادی تقاضوں میں شامل ہے۔ تعمیرِ نو کے عمل میں شہریوں کی ضروریات، امدادی سامان کی رسائی، بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور متاثرہ آبادی کی محفوظ واپسی کو اہمیت دینا ضروری ہے۔
اسی طرح تعمیرِ نو کے لیے بین الاقوامی امداد اور وسائل کے استعمال میں شفافیت، متاثرہ آبادی کی شمولیت اور بین الاقوامی انسانی قانون کے تقاضوں کی پاسداری بھی اہم ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر ترک صدر رجب طیب اردوان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب اور دستیاب بین الاقوامی رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ غزہ میں تباہی، ہلاکتوں اور تعمیرِ نو سے متعلق اعداد و شمار مختلف ذرائع میں مختلف ہو سکتے ہیں، اس لیے انہیں متعلقہ ذرائع اور تازہ سرکاری و بین الاقوامی ریکارڈ سے بھی جانچا جانا چاہیے۔


