**واشنگٹن — (ایچ آراین ڈبلیو)**امریکا نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران متاثر ہونے والی خلیجی توانائی تنصیبات کی بحالی اور تیل و گیس کی برآمد کے متبادل راستے تیار کرنے کے لیے 5 ارب ڈالر کے کثیر ملکی فنڈ میں سرمایہ کاری کی تجویز دی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ منصوبے کے تحت امریکا 5 ارب ڈالر فراہم کرے گا، جبکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت، عمان، عراق اور اردن سے مجموعی طور پر مزید 5 ارب ڈالر کی شراکت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس طرح مجوزہ فنڈ کا مجموعی حجم 10 ارب ڈالر تک ہوسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کا مقصد جنگ سے متاثرہ تیل و گیس کی تنصیبات، پائپ لائنز اور دیگر توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے ساتھ ساتھ ایسے متبادل برآمدی راستے تیار کرنا ہے جو آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرسکیں۔
مجوزہ منصوبے کو **Partnership for Allied Trust and Construction (PACT)** کا نام دیا گیا ہے، جبکہ امریکی ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن کے ذریعے فنڈ کے انتظام کی تجویز زیرِغور ہے۔
امریکی حکام کے مطابق منصوبے پر متعلقہ ممالک کے ساتھ بات چیت جاری ہے، شرائط میں تبدیلی ممکن ہے اور فی الحال یہ حتمی طور پر واضح نہیں کہ کون کون سے ممالک اس منصوبے میں شامل ہوں گے۔
رائٹرز کے مطابق اس منصوبے کی تفصیلات کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی، تاہم امریکی اور مشرق وسطیٰ کے حکام اور دستاویزات کے حوالے سے وال اسٹریٹ جرنل نے اس تجویز کی رپورٹ دی ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے اثرات صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہتے بلکہ بجلی، ایندھن، خوراک، روزگار اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں اور دستیابی پر بھی اثرانداز ہوسکتے ہیں۔
توانائی تنصیبات کی بحالی کے کسی بھی منصوبے میں شہریوں کی سلامتی، ماحولیات، شفاف مالیاتی نگرانی اور عوامی مفاد کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ اسی طرح علاقائی کشیدگی کم کرنے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مستقبل کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی اہم ہیں۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ، امریکی و علاقائی حکام سے منسوب معلومات اور دیگر دستیاب رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ 5 ارب ڈالر کا امریکی حصہ اور مجوزہ 10 ارب ڈالر کا مجموعی فنڈ تاحال حتمی معاہدہ نہیں ہے۔ منصوبے کی شرائط، شریک ممالک اور مالیاتی حجم مذاکرات کے دوران تبدیل ہوسکتے ہیں۔


