6

آئی پی ایل 2025 میں مبینہ میچ فکسنگ کے الزامات، سابق کرکٹر کے اعترافات سامنے آگئے

**نئی دہلی — (ایچ آراین ڈبلیو)**انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2025 میں مبینہ میچ فکسنگ اور اندرونی معلومات سٹے بازوں تک پہنچانے کے الزامات سامنے آنے کے بعد بھارتی کرکٹ میں ایک نیا تنازع پیدا ہوگیا ہے۔

تازہ رپورٹس کے مطابق بھارتی تحقیقاتی ادارے **تہلکہ** کی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کی خفیہ کیمرہ تحقیقات میں سابق فرسٹ کلاس کرکٹر رچت بھاٹیہ کی جانب سے مبینہ طور پر آئی پی ایل میچز سے متعلق اندرونی معلومات سٹے بازوں تک پہنچانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق رچت بھاٹیہ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 2025 کے آئی پی ایل میں چنئی سپر کنگز (CSK) سے متعلق پلیئنگ الیون اور دیگر اندرونی معلومات لندن میں موجود بکیز تک پہنچائیں اور مبینہ طور پر فی میچ 60 لاکھ روپے وصول کیے۔ ان کے مطابق پانچ میچز سے مجموعی طور پر تقریباً 3 کروڑ روپے حاصل ہوئے۔

تہلکہ کی رپورٹ کے مطابق یہ معلومات مبینہ طور پر اسنیپ چیٹ کے ذریعے سٹے بازوں تک پہنچائی جاتی تھیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

رپورٹ میں ایک نوجوان وکٹ کیپر بیٹر کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جسے کرکٹ صحافی پرتیش ہلدر نے سوشل میڈیا پر ونش بیدی کے نام سے شناخت کیا۔ ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق بیدی کو چنئی سپر کنگز نے آئی پی ایل 2025 کی نیلامی میں 55 لاکھ روپے میں خریدا تھا۔ ونش بیدی کے خلاف عائد الزامات کی آزادانہ تصدیق بھی تاحال نہیں ہوئی۔

رچت بھاٹیہ سے متعلق رپورٹ میں 2018-19 کی سید مشتاق علی ٹرافی میں مبینہ اسپاٹ فکسنگ کے دعوے بھی شامل ہیں۔ ان سے منسوب بیان کے مطابق انہوں نے سٹے بازوں سے رقم کے عوض جان بوجھ کر دو وائیڈ گیندیں کرائیں۔ رپورٹ میں رانجی ٹرافی کی ٹیم میں جگہ حاصل کرنے کے لیے مبینہ رشوت دینے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔

تہلکہ کی تحقیقات میں دہلی پریمیئر لیگ سے متعلق بھی مبینہ طور پر پلیئنگ الیون کی معلومات فراہم کرنے اور اس کے عوض رقم لینے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق بی سی سی آئی کی جانب سے ان مخصوص الزامات پر تاحال باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ کسی کھلاڑی یا ٹیم کے خلاف حتمی نتیجہ اخذ کرنے سے قبل متعلقہ کرکٹ حکام کی باضابطہ تحقیقات اور قابلِ اعتماد شواہد ضروری ہوں گے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

کھیلوں میں شفافیت اور دیانت داری کھلاڑیوں، شائقین اور کھیل کے اداروں کے اعتماد کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر میچ فکسنگ یا اندرونی معلومات کے غیر قانونی استعمال کے الزامات سامنے آئیں تو ان کی غیر جانب دار، شفاف اور شواہد پر مبنی تحقیقات ضروری ہیں۔

ساتھ ہی کسی فرد کو صرف الزامات یا خفیہ کیمرہ فوٹیج کی بنیاد پر قصوروار قرار دینا مناسب نہیں۔ متعلقہ کھلاڑیوں اور اداروں کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور مقررہ ضابطوں کے تحت تحقیقات کا سامنا کرنے کا مکمل حق حاصل ہونا چاہیے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور کھیلوں میں شفافیت سے متعلق مستند معلومات کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر دستیاب میڈیا رپورٹس اور تہلکہ کی مبینہ خفیہ کیمرہ تحقیقات میں سامنے آنے والے دعوؤں کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ میچ فکسنگ، اسپاٹ فکسنگ یا کسی کھلاڑی کے ملوث ہونے سے متعلق الزامات کو حتمی ثابت شدہ حقائق نہیں سمجھا جائے۔ متعلقہ کرکٹ حکام کی باضابطہ تحقیقات اور آزادانہ شواہد کے بعد ہی کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں