5

کراچی میں خصوصی صفائی مہم شروع کرنے کی ہدایت، تعمیراتی ملبہ بھی صاف کیا جائے گا

**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)*وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کراچی میں جاری صفائی آپریشن، سینیٹری انجینئرڈ لینڈ فل سائٹس اور جدید گاربیج ٹرانسفر اسٹیشنز (GTS) سے متعلق اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شہر میں خصوصی صفائی مہم شروع کرنے کی ہدایت کردی۔

اجلاس میں ایم ڈی سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ فواد غفار سومرو نے وزیر بلدیات کو شہر میں جاری صفائی آپریشن، لینڈ فل سائٹس اور جدید گاربیج ٹرانسفر اسٹیشنز سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر وسیم شمشاد سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی شریک ہوئے۔

ناصر حسین شاہ نے ہدایت کی کہ خصوصی صفائی مہم کے دوران شہر سے کچرے کے ساتھ ساتھ تعمیراتی ملبہ بھی مکمل طور پر صاف کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صفائی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تمام بلدیاتی اداروں کو بھی مربوط کیا جائے تاکہ جس علاقے میں جس ادارے سے متعلق مسئلہ ہو، اسے بروقت حل کیا جاسکے۔

وزیر بلدیات نے کہا کہ شہر میں صفائی کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور جہاں کہیں بھی تعمیراتی ملبہ موجود ہے، اسے ایک مرتبہ مکمل طور پر صاف کرنے کے بعد مستقل بنیادوں پر مؤثر نظام تشکیل دیا جائے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ ملبہ پھینکنے کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مجوزہ میکنزم میں شامل کیا جائے، جبکہ سڑکوں، خالی پلاٹوں یا دیگر مقامات پر غیر قانونی طور پر ملبہ پھینکنے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

ناصر حسین شاہ نے شہید بینظیر آباد اور میرپورخاص میں بھی صفائی آپریشن جلد شروع کرنے کی ہدایت کی۔

ایم ڈی سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ فواد غفار سومرو نے بریفنگ میں بتایا کہ شہید بینظیر آباد اور میرپورخاص میں صفائی آپریشن کے حوالے سے فزیبلٹی اسٹڈی آخری مراحل میں ہے، جبکہ لینڈ فل سائٹس کے قیام کے لیے مختلف علاقوں کا سروے بھی جاری ہے۔ ان کے مطابق ضروری انتظامات مکمل ہوتے ہی دونوں اضلاع میں صفائی آپریشن شروع کردیا جائے گا۔

فواد غفار سومرو نے مزید بتایا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ ایک پائیدار ویسٹ مینجمنٹ ماڈل تشکیل دے رہا ہے، جس میں ری سائیکلنگ پلانٹس سمیت جدید اقدامات کے ذریعے صفائی کے اخراجات میں کمی، کچرے سے توانائی پیدا کرنے اور قابلِ استعمال مواد کو دوبارہ کارآمد بنانے کے امکانات شامل ہیں۔

ان کے مطابق شہر کے مختلف مقامات پر کچرا اور تعمیراتی ملبہ غیر قانونی طور پر پھینکنے والے متعدد افراد کے خلاف ایف آئی آرز بھی درج کرائی جاچکی ہیں، جبکہ لینڈ فل سائٹ پر رات کے اوقات میں افسران کی ڈیوٹیاں بھی مقرر کی گئی ہیں تاکہ کچرے کی آمد و رفت اور آپریشن کی نگرانی بہتر بنائی جاسکے۔

اجلاس میں شہر کی صفائی، کچرے کی منتقلی، لینڈ فل سائٹس، جدید گاربیج ٹرانسفر اسٹیشنز اور مستقبل کے پائیدار ویسٹ مینجمنٹ نظام سے متعلق مختلف امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

صاف ستھرا اور صحت مند ماحول شہریوں کے معیارِ زندگی اور عوامی صحت سے براہِ راست متعلق ہے۔ کراچی میں کچرے اور تعمیراتی ملبے کی بروقت صفائی سے ماحولیاتی آلودگی، نکاسیٔ آب کے مسائل اور شہری صحت کو لاحق بعض خطرات میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

ویسٹ مینجمنٹ کے منصوبوں میں شفاف نگرانی، مؤثر کچرا اٹھانے کا نظام، ماحولیاتی معیار کی پابندی اور تمام علاقوں میں یکساں سہولیات کی فراہمی ضروری ہے۔ غیر قانونی طور پر ملبہ پھینکنے والوں کے خلاف کارروائی قانون اور شفاف طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہیے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر فراہم کردہ سرکاری پریس ریلیز اور متعلقہ حکام کی جانب سے دی گئی معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ صفائی آپریشن، فزیبلٹی اسٹڈیز، لینڈ فل سائٹس اور مستقبل کے ویسٹ مینجمنٹ منصوبوں کی حتمی تفصیلات میں انتظامی یا تکنیکی جائزے کے دوران تبدیلی ممکن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں