**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)**وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک (WFP) پاکستان کی نمائندہ انیتا ہرش کے درمیان وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں خوراک، غذائیت، اسکول صحت، سماجی تحفظ اور موسمیاتی لچک کے شعبوں میں جاری تعاون اور مستقبل کی شراکت داری کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نجم احمد شاہ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی، وزیراعلیٰ کے سیکریٹری آصف جمیل، سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے سی ای او ارشاد سوڈھڑ، ایس پی ایچ ایس کے سی ای او خالد شیخ اور ڈبلیو ایف پی کے دیگر حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں سندھ حکومت اور ڈبلیو ایف پی کے درمیان اسکول کھانوں، غذائیت، خوراکی نظام، موسمیاتی لچک، پیشگی اقدامات اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر غور کیا گیا۔
### سندھ پائیدار اسکول کھانا پروگرام
اجلاس میں سندھ پائیدار اسکول کھانا پروگرام خصوصی توجہ کا مرکز رہا۔ حکام کے مطابق امریکی محکمہ زراعت کی جانب سے اس پروگرام کے لیے تقریباً 80 ملین ڈالر کی گرانٹ فراہم کی گئی ہے۔
پروگرام کے تحت سندھ کے پانچ اضلاع کے 1,336 سرکاری اسکولوں میں تقریباً ڈھائی لاکھ طلبہ مستفید ہوں گے۔ ان اضلاع میں کیماڑی، ملیر، سجاول، ٹھٹھہ اور ٹنڈو محمد خان شامل ہیں۔
ڈبلیو ایف پی کیماڑی اور ملیر میں جبکہ سیو دی چلڈرن انٹرنیشنل سجاول، ٹھٹھہ اور ٹنڈو محمد خان میں پروگرام پر عملدرآمد کرے گا۔ پروگرام میں اسکولوں میں کھانوں کی فراہمی کے ساتھ واش (پانی، صفائی اور حفظانِ صحت) سہولیات کی بحالی اور غذائیت سے متعلق تعلیم بھی شامل ہے۔
حکام کے مطابق کیماڑی اور ملیر میں ڈبلیو ایف پی کا پروگرام 614 اسکولوں اور تقریباً ایک لاکھ طلبہ کا احاطہ کرے گا اور اس پر پانچ سال کے دوران عملدرآمد کیا جائے گا۔ اجلاس میں مفاہمت کی یادداشت، نگرانی کمیٹیوں، مستحق اسکولوں کے انتخاب، کچن کی تعمیر کے مقامات، بنیادی سروے اور دیگر انتظامی امور پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
### غذائیت اور سماجی تحفظ پر بھی گفتگو
اجلاس میں بینظیر نشونما پروگرام کے لیے ڈبلیو ایف پی کی معاونت، ماں اور بچے کی غذائیت، شدید غذائی قلت کے کمیونٹی بنیادوں پر انتظام اور ابتدائی بچپن میں غذائیت کی بہتری کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
موسمیاتی خطرات سے متاثرہ کمزور خاندانوں کے تحفظ کے لیے پیشگی اقدامات اور حکومت کی زیر قیادت سماجی تحفظ کے نظام پر بھی گفتگو ہوئی۔ اس سلسلے میں سیلاب، خشک سالی اور دیگر موسمیاتی ہنگامی حالات سے قبل کمزور خاندانوں کو بروقت معاونت فراہم کرنے کے طریقہ کار کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے خوراک، غذائیت اور انسانی سرمائے کی ترقی کو پائیدار ترقی کے بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ پائیدار اسکول کھانا پروگرام محض خوراک کی فراہمی نہیں بلکہ بچوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔
انہوں نے غذائی قلت سے نمٹنے، اسکول حاضری بہتر بنانے اور بچوں کے لیے صحت مند ماحول کی فراہمی کے لیے مختلف شعبوں کے درمیان مربوط پالیسی پر زور دیا۔
وزیراعلیٰ نے سندھ میں موسمیاتی لچک اور پیشگی اقدامات کے نظام کو ادارہ جاتی بنانے، اسکول میل پروگرام کو مزید اضلاع تک توسیع دینے اور غذائیت، واش، تعلیم اور سماجی تحفظ کو باہم مربوط کرنے کی ہدایت بھی کی۔
ڈبلیو ایف پی پاکستان کی نمائندہ انیتا ہرش نے سندھ حکومت کی قیادت اور عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ سندھ کا پائیدار اسکول میل پروگرام غذائیت، تعلیم، صحت اور مقامی اقتصادی ترقی کو یکجا کرنے کی کوشش ہے۔
صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے تعلیم اور صحت کی خدمات کے ساتھ غذائیت کو مربوط کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے مطابق بچوں اور ماؤں میں غذائی قلت ایک اہم چیلنج ہے اور زندگی کے پہلے ایک ہزار دنوں اور ابتدائی بچپن میں سرمایہ کاری کے دیرپا فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر سندھ حکومت اور ڈبلیو ایف پی نے اسکول میلز، غذائیت، خوراکی نظام، موسمیاتی لچک، پیشگی اقدامات، سماجی تحفظ اور ادارہ جاتی استعداد بڑھانے کے لیے تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
بچوں کو مناسب اور صحت مند خوراک، تعلیم، صاف پانی اور بنیادی صحت کی سہولیات تک رسائی ان کی فلاح و بہبود کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اسکول میلز پروگرام خصوصاً کمزور اور کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کے لیے غذائیت اور اسکول حاضری میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
اسی طرح سیلاب، خشک سالی اور دیگر موسمیاتی آفات سے پہلے کمزور خاندانوں کی نشاندہی اور بروقت سماجی تحفظ فراہم کرنا انسانی جانوں اور روزگار کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ایسے پروگراموں میں شفاف نگرانی، مستحقین کے درست انتخاب اور وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر سندھ حکومت کی فراہم کردہ معلومات اور دستیاب میڈیا رپورٹ کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ پروگرام کی مالی معاونت، مستحق طلبہ کی تعداد، اسکولوں کی تعداد اور دیگر اعداد و شمار متعلقہ حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق بیان کیے گئے ہیں۔ پروگرام کے عملی نتائج اور مستقبل کی پیش رفت کا آزادانہ جائزہ متعلقہ اداروں اور نگرانی کے نظام کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔


