**نیویارک — (ایچ آراین ڈبلیو)**جی سیون ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن میں حوثیوں کو اسلحہ فراہم کرنے اور ان کی حمایت کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے۔
برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکا کے وزرائے خارجہ نے یہ مطالبہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والے اجلاس کے بعد جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں کیا۔
مشترکہ بیان میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر کیے گئے حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ یمن میں جاری کشیدگی اور عسکری سرگرمیوں میں اضافہ علاقائی سلامتی، عالمی تجارت اور توانائی کے تحفظ کے لیے خطرات پیدا کر رہا ہے۔
جی سیون ممالک نے حوثیوں سے تمام فوجی کارروائیاں، شہری جہاز رانی کے خلاف دھمکیاں اور حملے فوری طور پر روکنے اور سیاسی عمل کی جانب واپس آنے کا مطالبہ بھی کیا۔
بیان میں ایران کی حوثیوں کے لیے مبینہ حمایت کو خطے میں کشیدگی میں اضافے سے جوڑا گیا اور کہا گیا کہ حوثیوں کی سرگرمیوں سے عالمی تجارتی راستوں اور علاقائی استحکام کو خطرات لاحق ہیں۔
جی سیون کے مطابق باب المندب کے قریب بڑھتی کشیدگی عالمی بحری تجارت کے لیے بھی اہم مسئلہ بن سکتی ہے، کیونکہ یہ آبنائے بحیرۂ احمر اور خلیج عدن کے درمیان بین الاقوامی بحری آمدورفت کا اہم راستہ ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
بحیرۂ احمر اور باب المندب جیسے اہم تجارتی راستوں میں عسکری کشیدگی سے شہری جہاز رانی، تجارتی سامان اور توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہوسکتے ہیں۔ مسلح تنازعات میں شہریوں، تجارتی جہازوں اور امدادی سرگرمیوں کے تحفظ کو بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی قانون کے اصولوں کے مطابق یقینی بنانا ضروری ہے۔
علاقائی کشیدگی کے پائیدار حل کے لیے سیاسی مذاکرات اور سفارتی کوششوں کو ترجیح دینا بھی اہم ہے، جبکہ کسی بھی فریق کے الزامات اور دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر جی سیون کے مشترکہ بیان اور فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ایران کی جانب سے حوثیوں کو اسلحہ یا دیگر معاونت فراہم کرنے سے متعلق دعووں کو متعلقہ فریق کے مؤقف اور بین الاقوامی رپورٹس کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ خبر میں کسی فریق کے دعوے کو آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔


