30

BRICS اجلاس کے بعد عالمی رہنماؤں کی صحت سے متعلق قیاس آرائیاں، بعض دعوے غیر مصدقہ

**نئی دہلی — (ایچ آراین ڈبلیو)**بھارت میں ہونے والے 18ویں BRICS سربراہی اجلاس کے بعد بعض عالمی رہنماؤں کی صحت سے متعلق مختلف دعوے اور قیاس آرائیاں سامنے آئی ہیں، تاہم ان میں سے بعض دعووں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

برطانوی جریدے **دی انڈیپنڈنٹ** کے مطابق چینی صدر ژی جن پنگ کے اجلاس کے بعد معمول سے قبل چین واپس جانے اور عشائیے میں شرکت نہ کرنے کے باعث سوشل میڈیا پر ان کی صحت سے متعلق قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔ تاہم چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ ژی جن پنگ نے 13 ستمبر کو BRICS اجلاس میں شرکت مکمل کرنے کے بعد معمول کے شیڈول کے مطابق نئی دہلی سے بیجنگ واپسی اختیار کی۔

چینی صدر کی صحت سے متعلق بعض سوشل میڈیا دعووں میں سنگین بیماری اور طبی ہنگامی صورت حال کی بات کی گئی، تاہم بھارتی وزارت خارجہ کے فیکٹ چیک یونٹ نے ایسے دعووں کو جعلی اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا کے دفتر نے تصدیق کی کہ وہ بھارت سے واپسی کے بعد علیل ہوئے اور ڈاکٹروں کے مشورے پر آرام کر رہے ہیں۔ تاہم ان کی بیماری کو BRICS اجلاس میں فراہم کیے گئے کھانے یا بھارت میں قیام سے منسلک کرنے کی کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔

BRICS اجلاس کے دوران عالمی رہنماؤں کے لیے پیش کیے گئے کھانے کے مینو پر بھی بھارت میں سیاسی بحث ہوئی، تاہم کھانے کو کسی رہنما کی بیماری کی وجہ قرار دینا فی الحال ثابت شدہ معلومات کے زمرے میں نہیں آتا۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

عالمی رہنماؤں کی صحت سے متعلق معلومات حساس نوعیت کی ہوتی ہیں۔ کسی عوامی شخصیت کی بیماری یا طبی حالت کے بارے میں غیر مصدقہ دعووں کو حقیقت کے طور پر پیش کرنے سے غلط معلومات پھیل سکتی ہیں۔ اس لیے صحت سے متعلق خبروں میں سرکاری تصدیق، معتبر طبی یا صحافتی ذرائع اور واضح انتساب کو ترجیح دینا ضروری ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر دستیاب سرکاری بیانات اور معتبر میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ژی جن پنگ کی صحت سے متعلق سنگین بیماری کے دعوے غیر مصدقہ ہیں اور بھارتی وزارت خارجہ نے انہیں گمراہ کن قرار دیا ہے۔ سیرل رامافوسا کی علالت کی تصدیق ان کے دفتر نے کی ہے، تاہم اسے BRICS اجلاس، کھانے یا بھارت میں قیام سے جوڑنے کی کوئی سرکاری تصدیق موجود نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں