19

سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیاروں کی فروخت، امریکا نے منظوری دے دی

**واشنگٹن — (ایچ آراین ڈبلیو)**امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو 48 ایف-35 اسٹیلتھ جنگی طیاروں کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ مجوزہ دفاعی معاہدے کی مالیت تقریباً **24.3 ارب ڈالر** بتائی گئی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق مجوزہ فروخت میں ایف-35 طیاروں کے ساتھ متعلقہ آلات، معاونت، تربیت اور دیگر دفاعی سہولیات بھی شامل ہیں۔ تاہم اس معاہدے کو حتمی شکل دینے سے قبل امریکی کانگریس کے جائزے کا مرحلہ باقی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ فروخت سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت، فضائی دفاع اور امریکی و دیگر اتحادی افواج کے ساتھ باہمی تعاون کو بہتر بنانے کے لیے ہے۔

امریکی حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مجوزہ دفاعی فروخت **مشرق وسطیٰ میں فوجی توازن کو تبدیل نہیں کرے گی** اور یہ طویل عرصے سے جاری امریکی پالیسی کے مطابق ہے جس کے تحت خطے میں اسرائیل کی فوجی برتری برقرار رکھنے کا اصول مدنظر رکھا جاتا ہے۔

سعودی عرب طویل عرصے سے ایف-35 طیاروں کے حصول میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اگر یہ معاہدہ مکمل ہوتا ہے تو سعودی عرب خطے کا پہلا عرب ملک بن سکتا ہے جو ایف-35 طیارے آپریٹ کرے گا، جبکہ اس وقت مشرق وسطیٰ میں اسرائیل ان طیاروں کو استعمال کرنے والا واحد ملک ہے۔

رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے پر امریکی کانگریس کو باضابطہ اطلاع دے دی گئی ہے اور قانون سازوں کے پاس اس کا جائزہ لینے کے لیے مقررہ مدت موجود ہے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

بڑے دفاعی معاہدے قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ خطے کے امن، استحکام اور عوامی وسائل سے متعلق وسیع تر سوالات بھی پیدا کرتے ہیں۔ ایسے معاہدوں میں شفافیت، قانونی نگرانی اور بین الاقوامی قوانین کی پابندی اہم ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے دوران تمام فریقین کے لیے شہری آبادی کے تحفظ اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر امریکی محکمہ خارجہ کے اعلان اور معتبر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ مجوزہ فروخت کی حتمی تکمیل امریکی کانگریس کے جائزے اور دیگر قانونی مراحل سے مشروط ہے۔ خطے میں اس معاہدے کے ممکنہ اثرات سے متعلق مختلف تجزیے موجود ہیں، جنہیں حتمی نتیجہ تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں