**سیول — (ایچ آراین ڈبلیو)**جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ میں براہِ راست فوجی طور پر شامل نہیں ہوگا اور ایسے فوجی دستے یا وسائل تعینات نہیں کیے جائیں گے جو جنوبی کوریا کو جنگ میں فریق بنا دیں۔
لی جے میونگ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جنوبی کوریا جنگ میں شمولیت یا مداخلت کا باعث بننے والی فوجی تعیناتی نہیں کرے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ملک اپنے شہریوں، تجارتی جہازوں اور خام تیل کی ترسیل کے راستوں کے تحفظ کے لیے محدود نوعیت کے اقدامات پر غور کر رہا ہے۔
جنوبی کوریا کے صدر کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور جنوبی کوریا کے تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے کم سے کم ضروری اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت خطے میں موجود جنوبی کوریائی بحری یونٹ **چیونگ ہی یونٹ** کے کردار کو مزید مؤثر بنانے کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
دوسری جانب لی جے میونگ نے امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے امکان پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ دوبارہ مذاکرات چاہتے ہیں اور سیول اس عمل کو ممکن بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
لی جے میونگ کے مطابق ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان دوبارہ بات چیت کا امکان مکمل طور پر خارج نہیں کیا جا سکتا، اگرچہ اس کے امکانات کا تعین کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس امکان کو حقیقت میں بدلنے کے لیے جو کچھ ممکن ہو، وہ کیا جانا چاہیے۔
جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے درمیان براہِ راست رابطوں کے مقابلے میں امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان دوبارہ مذاکرات شروع ہونا جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم شمالی کوریا کی جانب سے نئی ملاقات کے حوالے سے واضح آمادگی سامنے آنا باقی ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے دوران کسی بھی ملک کی فوجی شمولیت کے فیصلے کا تعلق شہریوں کے تحفظ، علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی قانون سے ہے۔ اسی طرح امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان سفارتی مذاکرات کی بحالی سے متعلق کوششیں کشیدگی میں کمی اور پُرامن سفارتی حل کے لیے اہم ہو سکتی ہیں۔ ایسے معاملات میں شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دینا وسیع تر عوامی مفاد میں ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عالمی تنازعات، سفارتی پیش رفت اور عوامی اہمیت کے معاملات کی آزادانہ صحافتی کوریج جاری رکھنے کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کے بیانات اور دستیاب بین الاقوامی رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ فوجی تعیناتی، آبنائے ہرمز میں ممکنہ حفاظتی اقدامات اور امریکا-شمالی کوریا مذاکرات سے متعلق آئندہ پیش رفت متعلقہ حکومتوں کے فیصلوں اور سرکاری اعلانات سے مشروط ہے۔


